Announcement:

We will guide you as how you can earn online. Earn money for free , Domain Parking , Captcha Jobs , Ad Network..More..

Latest Updates

View More Articles

Mylikes Links

Top ranked iPhone war game free chat. Download now
http://bit.ly/1bsDDbz
 
Think you know everything there is to know about Selena Gomez? #2 might surprise you! http://bit.ly/1eYi4Ud

Th 25 BEST Pokémon of All Time: do you agree? http://bit.ly/1bsGmSn

Here are 15 reasons why Penelope Cruz is an amazing woman! #5 is my fav! http://bit.ly/1eYicmJ

What did your favorite star look like in High School? We think #7 is surprising! http://bit.ly/1bsGxwX

Check out The 20 Most Expensive Cars You Can Buy! #17 is a rare exotic supercar! http://bit.ly/1eYieep

If your GPA can use a boost, #5 is a must http://bit.ly/1eYieuN

Miranda Kerr is one of today's hottest fashion icons. These 15 looks prove why! I love #3 http://bit.ly/1bsGAsH

Mylikes Links

Top ranked iPhone war game free chat. Download now
http://bit.ly/1bsDDbz
 
Think you know everything there is to know about Selena Gomez? #2 might surprise you! http://bit.ly/1eYi4Ud

Th 25 BEST Pokémon of All Time: do you agree? http://bit.ly/1bsGmSn

Here are 15 reasons why Penelope Cruz is an amazing woman! #5 is my fav! http://bit.ly/1eYicmJ

What did your favorite star look like in High School? We think #7 is surprising! http://bit.ly/1bsGxwX

Check out The 20 Most Expensive Cars You Can Buy! #17 is a rare exotic supercar! http://bit.ly/1eYieep

If your GPA can use a boost, #5 is a must http://bit.ly/1eYieuN

Miranda Kerr is one of today's hottest fashion icons. These 15 looks prove why! I love #3 http://bit.ly/1bsGAsH

Meke Money Online

جیو نیوز


جاگیردار کبھی بوڑھا نہیں ہوتا

http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20120228/Sub_Images/1101460861-2.gif

کسی کو تھپڑ کسی کو گولی

http://www.express.com.pk/images/NP_LHE/20120228/Sub_Images/1101460853-2.gif

تعلق توڑتا ہوں تو مکمل توڑ دیتا ہوں

 غزل


تعلق توڑتا ہوں تو مکمل توڑ دیتا ہوں
میں جس کو چھوڑ دیتا ہوں، مکمل چھوڑ دیتا ہوں
محبت ہو کہ نفرت ہو، بھرا رہتا ہوں شّدت سے
جدھر سے آئے یہ دریا وہیں کو موڑ دیتا ہوں
یقیں رکھتا نہیں ہوں میں کسی کچے تعلق پر
جو دھاگہ ٹوٹنے والا ہو، اس کو توڑ دیتا ہوں
میرے دیکھے ہوئے سپنے، کہیں لہریں نہ لے جائیں
گھروندے ریت کے تعمیر کرکے چھوڑ دیتا ہوں

یہ پاکستان تو نہیں ہے

یہ پاکستان تو نہیں ہے
  بڑی سی کڑاہی کی چمکیلی ریت کے اندر بھٹ بھٹ کر کے دانے بھنتے جا رہے تھے اور مائی رشیداں سخت گرمی کے باوجود تپتی دھوپ میں بیٹھی اپنی بھٹی جھونکنے میں مصروف تھی۔ وہ بھی کیا کرتی ؟ اسکی بھی مجبوری تھی، ایک ہی جوان نکھٹو بیٹا تھا اور ایک نئی نویلی نخریلی بہو تھی جسکے حتی المقدور اپنی حیثت سے بڑھ کر ناز اٹھانے کی کوشش کرتی رہتی تھی۔ پسینہ اسکے چہرے سے بہتا ہوا گریبان کو بھگو رہا تھا۔ وہ اپنی میلی چادر سے بار بار منہ پونچھ رہی تھی۔
زندگی نے قدم قدم پر اسکے امتحان لئے تھے۔ بچپن میں یتیمی سے شروع ہو کر یہ سلسلہ نوجوانی میں بیوگی پر ختم ہونے کی بجائے ابھی تک روز ایک نیا تماشہ دیکھانے پر مصر رہتا تھا۔
بیوہ ہونے سے پہلے اس کا ایک ہی بیٹا جمال تھا جو جیسے جیسے عمر میں بڑا ہوتا گیا ویسے ویسے اسکے خواب بھی اونچے سے اونچے تر ہوتے چلے گئے تھے اور اسکے” گن ” کم سے کم ترین۔ اسکا سب سے بڑا کل وقتی مشغلہ بستر پر لیٹ کر ” باہر” جانے کے خواب دیکھنا تھا۔
اسے اپنی بھٹیارن ماں سے بہت سی شکایات تھیں۔ اسکی غریب ماں اسکے لئے ہمیشہ دوستوں کے سامنے شرمندگی کی وجہ بنی تھی۔ فیس نہ ہونے کی وجہ سے وہ شہر کے اسکول سے میٹرک کرنے کے بعد ہی وآپس آ گیا تھا۔ تب سے اب تک وہ صرف اور صرف بیرون ملک جانے کے چکر میں لگا ہوا تھا۔ اس کو یقین ہو چکا تھا پاکستان میں رہتے ہوئے اسکی زندگی مزید بگڑ تو سکتی ہے مگر کبھی بن نہیں سکتی۔
جمال کے باقی خواب تو پورے نہیں ہو سکتے تھے مگر میٹرک پاس اور شکل وصورت اچھی ہونے کی وجہ سے گا ¶ں کے چوہدری کمال دین کی اکلوتی بیٹی کلثوم بیگم سے شادی ضرور ہو گئی تھی کیونکہ یہ اکیلا ہی پڑھا لکھا لڑکا تھا پورے گاو ¾ں میں تو چوہدری نے اپنا داماد بنا لیا۔
کلثوم کی ماموں زاد بہن زینب اتفاق سے رشید کے ساتھ بیاہ کر لندن چلی گئی تھی اور اسکو دیکھ دیکھ کر کلثوم نے بھی لندن جانا اور وہیں بس جانا اپنی زندگی کا سب سے بڑا خواب بنا لیا تھا۔اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے ایک ہی سودا اسکے سر میں سمایا ہوا تھا۔ ہر صورت میں وہ جمال کو لے کر لندن چلی جانا چاہتی تھی گویا کہ باہر جانے کا شوق رکھنے والے دو دیوانے ایک ساتھ مل گئے تھے۔ اب تو جو بھی ہوتا، کم ہی تھا۔
ماں بھٹی پر دانے بھون بھون کر جو دو پیسے جوڑتی، وہ لے کر کلثوم اور جمال صبح شام لندن میں زینب اور اسکے میاں رشید کو فون کرنے میں ضائع کر دیتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو سالوں کی سر توڑ کوشش کے بعد یہ دونوں آخرکار لندن کا ویزا لینے میں کامیاب ہوہی گئے۔
ٹکٹ کے پیسے نہیں بن ر ہے تھے تو مائی رشیداں نے اپنا چھوٹا سا گھر بیچ کر جھگی میں رہنا گوارا کر لیا اور ان پیسوں سے ان دونوں کو ٹکٹ لے دیا۔ گویا اپنے اور اپنے بچوں کے درمیان خود جدائی کی ایک لکیر کھینچ ڈالی۔ کبھی کبھی تو اس کو لگتا تھا جیسے اس کا وجود بھی ایک “بھٹہ” یا “چھلی” ہے جس کو جمال اور کلثوم نمک کے ساتھ صبح شام درد کی کڑاھی میں ڈال کر بھونا کرتے ہیں۔
آخر کار جدائی کا دن آ ہی گیا۔ ہمیشہ کے لئے وہ دونوں بھی بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح اپنی ماں کو جلدی لندن بلانے کے جھوٹے وعدے کرکے چلے گئے تھے۔ایسے وعدے جو کبھی ایفاءکرنے کے لئے نہیں کئے جاتے بلکہ یہ تو صرف ایسی “خیالی بنیادوں” کی طرح مضبوط ہوتے ہیں جن پر کبھی یقین کی عمارتیں نہیں بنا کرتیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہیتھرو ائیرپورٹ پر یہ دونوں پاگلوں کی طرح ہر چیز کو حیرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔ جہاز سے اترتے وقت کلثوم نے جہاز والوں کے برتن بھی دھو کر اپنے بیگ میں ڈال لئے تھے تاکہ لندن پہنچ کر کام آئیں۔ اتنے بڑے باتھ روم اور ٹشو پیپزر دیکھ کر جمال کی رال ہی ٹپک پڑی اور پوچھنے لگا ، کیا ہم یہ بھی اٹھا کر گھر لے جائیں؟
اس بات پر کلثوم بے اختیار ہنس پڑی اور بولی۔
“رہنے دو بے وقوف یہ تو پورے لندن میں ہر جگہ ہوں گے۔ ہم کو اٹھانے کی کیا ضرورت؟ یاد نہیں زینب کہتی تھی لندن میں تو ایسا ہر جگہ ہو گا ۔۔۔ اور ہم اب خود یہاں پہنچ گئے ہیں ۔ ؟ یہ امیروں کا ملک ہے۔۔۔۔۔ کوئی غریب سا پاکستان تو نہیں ہے؟”
کلثوم نے صرف مڈل پاس تھی۔ اچھی نوکری ملنا تو مشکل تھا۔ ان دونوں میاں بیوی کو ایک فایﺅ اسٹار ہوٹل میں بستروں کی چادریں بدلنے کی نوکری مل گئی۔ اسٹاف میں اور پاکستانی لوگ بھی تھے جو انکی انگلش سمجھنے میں مدد کر دیتے تھے۔
جب کلثوم نے پہلی بار بہت تنگ اور چھوٹی سی پینٹ شرٹ پہنی جو دیکھنے میں کسی بچے کے ناپ کی محسوس ہو رہی تھی۔ جمال اسے دیکھ کر حیران و پریشان رہ گیا۔۔۔ اور سمجھ نہیں سکا کیسے رد عمل کا اظہار کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے شوق تو تھا کلثوم کو اس طرح کے حلیے میں دیکھنے کے لئے مگر سچ تو یہ ہے کہ ایسا دیکھ کر اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے غصے سےے دیکھتے ہوئے کلثوم سے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تمھیں ایسے کپڑے پہننے کی ضرورت نہیں ۔جاو کوئی ڈھنگ کے کپڑے پہنو ”
یہ سن کر کلثوم غصے سے آگ بگولا ہو گئی اور جھلا کر بولی
“کیوں نہ پہنوں جی؟ سب ہی پہنتے ہیں ۔میں تو ضرور ایسے ہی کپڑے پہنوں گی اور جم جم پہنوں گی ۔ یہاں کس بات کا ڈر، ہے ، یہ پاکستان تو نہیں ہے؟”
***************************
جب انسان کا اچھا وقت ہو تو سال بھی منٹوں میں گزر جاتے ہیں اور جب برا وقت چل رہا ہو تو ایک ایک دن صدیاں بن کر گزرتی ہیں۔ یہی حال مائی رشیداں کا تھا۔ وقت کاٹے نہیں کٹتا تھا۔ صبح شام اپنے بچوں کا انتظار کرتی جن کو گئے پانچ سال ہونے کو آئے تھے۔ گا ¶ں والوں سے کئی بار اس نے ذکر سنا تھا کہ کلثوم اپنے گھر والوں کو پیسے اور تحفے تحائف بھیجتی رہتی ہے مگر رشیداں بی بی کے لئے وہ لوگ سال میں صرف ایک خط لکھنا بھی کافی سمجھتے تھے۔
وہ سارا سارا دن اپنی جھگی میں اکیلی بیمار پڑی رہتی۔ اب تو اس میں بھٹی جھونکنے کی ہمت بھی نہیں رہی تھی۔ کبھی کبھار محلے والے کچھ کھانے پینے کا سامان دے جاتے جو اسکے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے کی وجہ بنا ہوا تھا۔خدا نہ کرے کبھی کوئی اپنے پیاروں کا یہ روپ دیکھنے کو زندہ رہے۔ شاید اسی لئے قدرت کو اس پر رحم آ گیا تھا۔ ایک رات جو روتے روتے سوئی تو دوبارہ کبھی جاگ ہی نہ سکی۔
***************************
اپنی ماں کی موت کی اطلاع پا کر وہ رک نہ پایا اور فوراً اپنی بیوی اور دو بچوں نبیلہ اور فیضی کو لے کر پاکستان آ گیا۔ گھنٹوں قبر پر بیٹھ کر روتا رہا مگر رونا اب کس کام کا تھا؟ کتنا اچھا ہو لوگوں کو رہتے سمے اس بات کا احساس ہو جایا کرے۔ انکی غریب مجبور ماں تنہائی کا زہر پیتے پیتے کتنی کسمپرسی میں مر گئی تھی۔مرنے کے بعد رونے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
ایک مہینہ رک کر وہ لوگ وآپس چلے گئے۔ وقت تیزی سے گزرتا جا رہا تھا۔ اس عرصے میں کلثوم کے والدین بھی مر گئے۔ اب پاکستان میں انکا کوئی باقی نہیں بچا تھا۔ اس لئے پاکستان سے ہر تعلق ٹوٹ گیا۔ انکے بچے نبیلہ اور فیضی بھی سولہ اور سترہ سال کے ہو گئے تھے اور پوری طرح لندن کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ ان کو پاکستان بالکل بھی پسند نہیں آیا تھا۔ اس لئے دوبارہ کبھی جانا نہیں چاہتے تھے۔
***************************
ایک دن جب فیضی رات کو دیر سے گھر آیا تو جمال نے اسکو ڈانٹا اور روز جلدی آنے پر اصرار کیا۔ کلثوم ہمیشہ کی طرح انکے آڑے آ گئی اور فیضی کو بچاتے ہوئے بولی ۔۔
” اب بس بھی کرو ۔کتنا ڈانٹو گے؟ ہر بات میں روک ٹوک۔۔۔۔۔۔ہر بات میں بچوں پر پابندیاں لگانا؟ کیا ہو گیا ہے تمھیں؟ مت ایسا کیا کرو۔ تم سترہ سال بعد بھی انہی پرانی فرسودہ روایات سے چپکے کیوں رہتے ہو؟ نئے زمانے کے ساتھ چلو ۔۔۔۔۔۔اب تو خود کو بدل ڈالو۔۔۔ ہم لندن میں رہتے ہیں ۔۔۔۔یہ کوئی پاکستان تو نہیں ہے؟
وقت اپنا حساب بےباک کرنے کو شاید ان لوگوں سے بھی زیادہ بےتاب تھا۔۔۔اسی لئے سب کچھ بہت جلدی جلدی سے ہوتا چلا گیا۔ دونوں بچے پوری طرح مغربی طرز زندگی کے عادی ہو چکے تھے ۔ دونوں باری باری اپنے دووستوں یا گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کو بار بار گھر لانے لگے تو کلثوم کا بھی ماتھا ٹھنکا۔۔۔۔ ۔سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر اب پانی سر سے گزر چکا تھا۔ بچے دو بدو انکو ہر بات کا جواب دیتے اور خوب بدتمیزی کرتے ۔ اب تو پاکستان میں کوئی بچا بھی نہیں تھا جسکے پاس وہ پلٹ کر جاتے اور یہاں انکے بچے انکو اکیلا چھوڑ کر اتنی پابندیوں سے تنگ ٓ کر اپنے اپنے بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کے ساتھ گھر چھوڑ کر جا چکے تھے۔
***************************
دونوں بہت روتے پچھتاتے مگر اب کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئی کھیت۔۔۔۔
وقت آپکو وہی سود کے ساتھ لوٹا دیتا ہے جو آپ نے اپنے مستقبل کے لئے جمع کروایا ہوتا ہے۔ ببول کی جھاڑی پر کبھی آم نہیں لگتے۔ بچوں کی بے راہ روی دیکھ کر جمال بھی زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکا اور ایک اچانک دن ہارٹ اٹیک میں ختم ہو گیا۔
کلثوم سارا سارا دن اکیلی بولائی بولائی پھرتی۔ بچوں کی کچھ خبر نہیں تھی۔ وہ کبھی اپنی ماں سے ملنے نہیں آتے تھے۔ آزاد ہو چکے تھے اور جانے کہاں کہاں گھومتے رہتے تھے۔ کبھی کبھار زینب اور رشید ملنے آ جاتے۔۔۔۔ اسکے بعد پھر وہی تنہائی، کلثوم ہر وقت پچھتا ¶ں کے مینار بناتی اور پھر خود اذیتی کے کلہاڑوں سے توڑتی رہتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساری ساری رات سودوزیاں کا حساب کرتی رہتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افسوس کہ۔۔۔۔۔ ہر گوشوارے میں صرف نقصان ہی لکھا ہوا تھا نفع تو کہیں نہیں تھا۔اگر وہ چاہتی تو لندن میں رہ کر بھی اس کے بچے بہت اور نیک بن سکتے تھے ۔ اب کس کو الزام دیتی۔۔۔۔۔۔۔یہ تو اس کی اپنی تربیت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو بویا تھا وہی کاٹ رہی تھی۔
***************************
اسی پریشانی اور پشیمانی میں زندگی کے دن پورے کر رہی تھی ایک دن بلڈ پریشر اتنا بڑھا کہ برین ہیمریج ہو گیا۔ چکرا کر گر گئی اور کوئی اٹھانے بھی نہیں آیا۔ جاب والوں نے بہت فون کئے مگر کوئی جواب نہیں آیا تو اس اپارٹمنٹ کے مالکوں سے رابطہ کیا گیا۔ ان لوگوں نے دروازہ کھولا تو اسکو مرے چار گھنٹے ہو چکے تھے۔
کوئی بھی اسکی لاش پر رونے والا نہیں تھا۔ وہ بے گور کفن اندر پڑی تھی اور دروازے کے باہر سیکیورٹی والا آدمی کرسی ڈال کر بیٹھا بےزاری سے کسی رشتہ دار کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تاکہ لاش اس کے حوالے کر کے خود وآپس جا سکے۔
انگریز ہمسائے ادھر سے گزرتے تو یہ جان کر کند ھے اچکاتے، افسوس کا اظہار کرتے اور لفٹ کی طرف بڑھ جاتے۔اسکی لاش پر کوئی رونے یا کاندھا دینے کے لئے نہیں رک رہا تھا ۔ کوئی رکتا بھی تو کیسے بھلا؟ یہ کوئی پاکستان تو نہیں ہے۔

کارخانہ قدرت ۔ بلی کی آنکھوں والا لڑکا

http://www.theajmals.com/blog/wp-content/uploads/2012/01/%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%D9%8A%D8%B1%DB%92-%D9%85%D9%8A%DA%BA-%D8%AF%D9%8A%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7-%DB%941.jpg ايک چينی لڑکے نَونگ يُو ہُوئی کو اللہ سُبحانُہُ نے تعجب انگيز بصارت عطا کی ہے ۔ اس لڑکے کی آنکھيں چمکدار نيلے رنگ کی ہيں اور اندھيرے ميں بلی کی آنکھوں کی طرح دھمکتی ہيں ۔ نَونگ يُو ہُوئی دن ميں عام انسانوں کی طرح ديکھ سکتا ہے اور رات کے اندھيرے ميں بھی اسے دکھائی ديتا ہے
نَونگ يُو ہُوئی کے متعلق پہلی بار 2009ء ميں پتہ چلا جب اس کے باپ نَونگ شی ہُوآ نَونگ يُو ہُوئی کی چمکدار نيلی آنکھوں کی وجہ سے پريشان ہو کر اُسے جنوبی چين کے شہر داہُوآ کے ہسپتال لے کر گيا ۔ ڈاکٹروں نے اُسے بتايا کہ “پريشانی کی ضرورت نہيں ۔ نَونگ يُو ہُوئی جب بڑا ہو گا تو اس کی آنکھيں ٹھيک ہو جائيں گی ۔ مگر کئی سال گذرنے کے باوجود نَونگ يُو ہُوئی  کی آنکھوں ميں کوئی تبديلی نہ آئی اور نہ اس خصوصيت کی وجہ سے کوئی پريشانی لاحق ہوئی باقی اس وِڈيو ميں ديکھا جا سکتا ہے

باقی اس وِڈيو ميں ديکھا جا سکتا ہے  

کہانی اور حقيقت ۔ ہمارا قومی کردار

بچپن میں کہانیاں بڑے شوق سے سنا کرتے تھے ۔ يہ کہانياں گو مبالغہ آميز ہوتيں ليکن اپنے اندر ايک سبق لئے ہوئے بچوں اور بڑوں کيلئے بھی تربيت کا ايک طريقہ ہوتی تھيں ايک کہانی جو عام تھی يہ کہ ايک ملک کا بادشاہ مر گيا ۔ شورٰی نے فيصلہ کيا کہ جو شخص فلاں دن صبح سويرے سب سے پہلے شہر ميں داخل ہو گا اُسے بادشاہ بنا ديا جائے گا ۔ اس دن سب سے پہلے ايک فقير داخل ہوا سو اُسے بادشاہ بنا ديا گيا ۔ فقير کو کبھی حلوہ نصيب نہيں ہوا تھا ۔ اس نے حلوہ پکانے کا حُکم ديا اور خوب حلوہ کھايا ۔ دوسرے دن پھر حلوہ پکوايا اور خوب کھايا ۔ فقير حلوہ پکوانے اور کھانے ميں لگا رہا ۔ سلطنت کے اہلکار حلوے کا بندوبست کرنے ميں لگے رہے اور ملک تباہ ہو گيا ۔ فقير نے اپنا کشکول پکڑا اور پھر بھيک مانگنے چل پڑا اس کہانی کا مقصد تو يہ تھا کہ فيصلے عقل سے ہونے چاہئيں اور ہر آدمی کو اجتماعی بہتری کا کام کرنا چاہيئے نہ کہ ايک شخص [بادشاہ] کی چاپلوسی ليکن عوام فقير کو ہی تباہی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہيں اُنہيں کوئی قصوروار نہيں کہتا جو ملک و قوم کو بھول کر حريص بادشاہ کی خوشامد ميں لگے رہے اور اپنے مناصب کا کام نہ کيا جس سے ملک تباہ ہوا اور قوم بدحال نہ اُس بادشاہ کی رعايا کو کوئی کچھ کہتا ہے جو سوئی رہی اور تباہی کو روکنے کيلئے کچھ نہ کيا آج پورے ملک میں امن و امان کی حالت خراب ۔ کمر توڑ مہنگائی اور قومی دولت کی لُوٹ مار ہے ۔ لاکھوں گھروں میں نہ بجلی ہے نہ پانی اور نہ ہی گیس ۔ کارخانوں کے لاکھوں مزدور اور ہُنر مند دو وقت کی روٹی اور پانی بجلی گیس کے بلوں کی ادائیگیوں کیلئے ذلت کی انتہائی گہرائیوں میں گر چکے ہیں ۔ سرکاری دفاتر ميں بغیر رشوت دیئے جائز کام بھی نہیں ہوتے ۔ نہ گھروں میں لوگ چوروں ڈاکوؤں سے محفوظ ہیں اور نہ ہی سڑکوں بازاروں میں غریب آدمی سے ملک کی موجودہ بد تر حالت کو تبدیل کرنے کیلئے باہر نکلنے کو کہیں تو وہ کہتے ہیں ہم میں تو طاقت ہی نہیں ہے مڈل کلاس والوں سے کہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس تو وقت ہی نہیں ہے اور امیر کہتے ہیں کہ ہمیں باہر نکلنے کی کوئی ضرروت ہی نہیں ہے سب شائد یہ بھول گئے ہیں کہ جب آگ بھڑک اُٹھے اور سب مل کر اسے نہ بجھائیں تو وہاں رہنے والے سب بھسم ہو جاتے ہیں دوسری کہانی کہتے ہیں کہ کسی گاؤں کے کسان کی حویلی کے صحن میں ایک درخت تھا جس کے نیچے وہ اپنی گائے اور بکری کو باندھا کرتا تھا ۔ اس نے ایک مرغا بھی پالا ہوا تھا ۔ ایک دن کسان کی بيوی نے کہا کہ “سردیاں آرہی ہیں ۔ کل اس درخت کو کاٹ کر لکڑیاں بنا لیں گے”۔ کسان نے کہا کہ “یہ درخت ميرے باپ کی لگائی ہوئی نشانی ہے ۔ اسے مت کاٹو”۔ لیکن کسان کی بیوی نے ضد کرتے ہوئے اسے کاٹنے کا فیصلہ سنا دیا درخت نے جب یہ سنا تو اس نے اپنی ٹہنی پر بیٹھے ہوئے مرغے سے کہا “تم سُن رہے ہو کہ مجھے مارنے اور کاٹنے کا منصوبہ بن رہا ہے ۔ میری کسی طرح مدد کرو ۔ اگر میں نہ رہا تم کس ٹہنی پر بیٹھا کروگے ؟” مرغے نے یہ کہہ کر منہ دوسری طرف کر لیا کہ “تم جانو اور تمہار اکام ۔ میں پوری حویلی میں بھاگتا پھروں گا” درخت نے مرغے سے مایوس ہو کر پہلے گائے اور پھربکری کی منتیں کیں کہ “کسی طرح حویلی کے مالکوں کو سمجھاؤ کہ وہ مجھے مت کاٹیں ۔ میں تم سب کو سانس لینے کیلئے آکسیجن دیتا ہوں ۔ تپتی گرمیوں میں اس حویلی والوں کو گرم لُو سے بچاتا ہوں اور جب تمہیں زیادہ بھوک لگتی ہے تو میرے پتے تمہارے کام آتے ہیں”۔ لیکن بکری اور گائے نے بھی کہا کہ “میاں اپنی جان بچانے کا بندو بست تم خود کرو ۔ تمہارے کٹ جانے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ ہمیں تو روزانہ باہر لے جایا جاتا ہے اور تمہارے پتوں کی ہمیں اتنی ضرورت بھی نہیں ہے” اگلی صبح کسان کی بیوی نے اس درخت کو کٹوا کر اس کی لکڑیاں بنوا لیں اور ایک کچے کوٹھے میں اس کا ڈھیر لگا دیا ۔ جب سردیاں شروع ہوئیں تو ایک رات کسان کی بیوی لکڑیاں لینے کیلئے گئی ۔ چند لمحوں بعد اس کی تیز اور خوفناک چیخوں سے ساری حویلی گونجنے لگی ۔ سب بھاگ کر گئے تو دیکھا کہ اُسے لکڑیوں میں چھپے ہوئے سانپ نے ڈس لیا تھا اور وہ اپنی ٹانگ پکڑے بُری طرح تڑپ رہی تھی ۔ فوری طور پر گاؤں کے حکیم کو بلایا گیا جس کے فوری علاج سے عورت بچ تو گئی لیکن اس پر کمزوری چھانے لگی ۔ حکیم صاحب نے کہا کہ “اسے دوائی کے ساتھ ساتھ مرغ کی گرم گرم یخنی پلائی جائے”۔ فوری طور پر مُرغے کو ذبح کیا گیا اور وقفے وقفے سے اس کی یخنی کسان کی بیوی کو پلائی جانے لگی لیکن زہر نے کمزوری سارے جسم میں پھیلا دی تھی ۔ اس پر حکیم صاحب نے کہا کہ “مریضہ کو بکرے کی یخنی پلائيں اور ساتھ گوشت بھُون کر روزانہ کھلایا جائے”۔ چنانچہ بکری کو ذبح کیا گیا ۔ جب کسان کے رشتہ داروں اور اس کے سسرال والوں تک اس کی بیوی کو سانپ کے کاٹنے کی خبر پہنچی تو ان کے پاس تیمارداری کیلئے آئے ہوئے رشتہ داروں کا جمگھٹا ہو گیا ۔ ان مہمانوں کیلئے کسان کو اپنی گائے ذبح کرنا پڑی آج ہماری قوم کا بھی کچھ ايسا ہی حال ہے ۔ ملک اپنے ہی کرتُوتَوں کی وجہ سے تباہی کی طرف تيزی سے گامزن ہے اور جسے ديکھو وہ صرف اپنا دامن بجانے کی فکر ميں ہے ۔ اجتماعی فکر کسی کو نہيں ہے سب بھُولے بيٹھے ہيں کہ ” يہ مُلک سلامت رہے گا تو ہم بھی سلامت رہيں گيں اور يہ مُلک ترقی کرے گا تو ہماری تکاليف دور ہوں گی”

مرا نہیں تو کسی اور کا بنے تو سہی

مرا نہیں تو کسی اور کا بنے تو سہی
کسی بھی طور سے وہ شخص خوش رہے تو سہی
پھر اس کے بعد بچھڑنے ہی کون دے گا اسے 
کہیں دکھائی تو دے وہ کبھی ملے ہی سہی
کہاں کا زعم ترے سامنے انا کیسی
وقار سے ہی جھکے ہم مگر جھکے تو سہی 
جو چپ رہا تو بسا لے گا نفرتیں دل میں
برا بھلا ہی کہے وہ مگر کہے تو سہی
کوئی تو ربط ہو اپنا پرانی قدروں سے
 کسی کتاب کا نسخہ کہیں ملے تو سہی
 دعائے خیر نہ مانگے کوئی کسی کیلیے
 کسی کو دیکھ کے لیکن کوئی جلے تو سہی
 جو روشنی نہیں ہوتی نہ ہو بلا سے
مگر سروں سے جبر کا سورج کبھی ڈھلے تو سہی

اس ادا سے میں بھی ہوں آشنا

Qateel Shifai Poetry And Ghazal In Urdu
 

ساحلوں کے گیت

’’بے بی ! چندا اٹھ جائو ناں‘ کتنا سوئو گی۔ دیکھو تو سات بج رہے ہیں۔ اٹھ جائو جان‘ بے بی ! بھئی اٹھ جائو شاباش ! اتنا سونا ٹھیک نہیں۔‘‘
وہ گزشتہ پندرہ منٹ سے اسے جگا رہی تھیں۔ وہ تو ٹس سے مس نہیں ہو رہی تھی۔ فاطمہ نے کمرے میں بکھری اس کی چیزیں سمیٹیں۔ پردے سرکائے تاکہ سورج کی شفاف کرنیں اسے جگانے میں کامیاب ہو جائیں۔
’’بہت گندا بچہ ہے یہ ہمارا۔ دیکھو تو دودھ کا گلاس جوں کا توں پڑا ہے۔ بے بی… سجیلہ… جان اٹھ جائو… اٹھ جائو سات بج رہے ہیں۔‘‘
فاطمہ چیزیں سمیٹ کر پھر اس کی طرف آ گئیں۔ پیار سے اس کے چہرے پر آئے بال درست کرتے ہوئے کہا۔
’’کیا ہے بجو !‘‘ قسم سے آپ تو سونے بھی نہیں دیتیں۔ کہاں سات بج رہے ہیں‘ پورے تین منٹ باقی ہیں‘ سونے دیں۔‘‘
سجیلہ نے وال کلاک پر نظر ڈالی اور پھر چادر تان کر لیٹ گئی۔
’’سجیلہ جان ! جب رات کے بے شمار منٹ تمہاری نیند پوری نہیں کر سکے تو یہ تین منٹ کہاں نیند کی پیاس کو بجھا سکیں گے۔‘‘ فاطمہ نے پھر چادر سر کا دی۔
’’بجو پلیز!‘‘ سجیلہ نے منت بھرے لہجے میں کہا۔ یوں نیند میں بے حال منت کرتی چھوٹی بہن پر فاطمہ کو پیار آ گیا۔
’’سجو ! تمہیں معلوم ہے کہ پپا جی کو دیر تک سونا پسند نہیں۔‘‘
یہ کہتے ہوئے فاطمہ کی نظروں میں پپا جی کا چہرہ گھوم گیا۔ انہوں نے کتنا غضبناک ہو کر کہا تھا۔ ’’جائو بے بی کو بلا کر لائو۔‘‘ وہ ایک منٹ بھی ادھر ادھر نہیں ہونے دیتے تھے۔
’’بجو ! پپا جی کو تو ہمارا سانس لینا بھی پسند نہیں مگر یہاں آکر وہ خدا سے مات کھا جاتے ہیں کہ زندگی دینا اور لینا سب اس کے اختیار میں ہے۔‘‘
صبح ہی صبح اس نے تلخیوں کا زہر اندر انڈیلتے ہوئے دراز بالوں کا جوڑا بنایا اور اٹھ بیٹھی۔
فاطمہ نے چونک کر اسے دیکھا۔ وہ ایسی ہی تھی۔ ذرا سی بات پر تلخ ہو جاتی تھی۔ بغاوت پر اتر آتی۔ کبھی کبھی تو فاطمہ لرز جاتیں وہ اٹھ کر اس کے قریب آ گئیں۔
’’ہیں… ہیں سجیلہ… یہ کیا بات ہوئی جانو‘ جیسے ہمارے پپا جی ہیں‘ مما جان ہیں۔ کسی کے ایسے نہ ہوں گے‘ ایسے نہیں کہتے۔‘‘
’’ہاں واقعی بجو ! یہاں میں آپ سے متفق ہوں کہ جیسے ہمارے والدین ہیں ناں ایسے کسی اور کے نہ ہوں گے۔‘‘ سجیلہ نے ایک اور کڑوا گھونٹ حلق میں اتارا تو تلخی فاطمہ کو محسوس ہونے لگی۔ یہ سجیلہ ایسی کیوں ہے۔ وہ اسے دیکھنے لگیں۔
’’بری بات چندا ! ایسے نہیں کہتے ہیں‘ اب جلدی سے تیار ہو جائو‘ یونیورسٹی کا پوائنٹ بھی تو آنے والا ہے۔‘‘
’’اوہ ہاں ! آج تو لیب بھی ہے۔‘‘
سجیلہ پھرتی سے اٹھی اور باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔
’’باجی ! آپ بھی کمال کرتی ہیں۔ پپا جی ناشتے پر انتظار کر رہے اور آپ بھی آکر بیٹھ گئیں۔ وہاں پپا جی خفا ہو رہے ہیں۔‘‘
آمنہ حسب عادت تیز لہجے میں بولتے ہوئے آگئی تو فاطمہ اس کی طرف بڑھیں۔
’’ہاں‘ ہاں ! ہم آرہے ہیں۔ وہ بے بی رات دیر تک پڑھتی رہی ہے ناں تو آنکھ دیر سے کھلی‘ اب وہ باتھ روم میں ہے‘ ہم ابھی آتے ہیں‘ تم جائو پپا جی کو بتا دو۔‘‘
’’کیا ضرورت تھی رات دیر تک پڑھنے کی‘ پتا بھی ہے‘ پپا جی وقت کے معاملے میں کتنے سخت ہیں۔ یہ دلیلیں‘ تاویلیں وہ پسند نہیں کرتے۔ بے بی جلدی کرو بھئی کتنی دیر لگائو گی؟‘‘
آمنہ نے زور سے آواز دی تو فاطمہ جلدی سے بولی۔
’’آمنہ ! ہم آتے ہیں‘ اس میں اتنا خفا ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ بے بی ابھی بچی ہے‘ اس پر یوں ناراض ہونا مناسب نہیں‘ تم چلو ہم آتے ہیں۔‘‘
فاطمہ طبعاً بے حد حلیم اور حد درجہ حساس تھیں اور ویسے بھی سجیلہ گھر میں سب سے چھوٹی تھی اور فاطمہ کو اس سے زیادہ ہی پیار تھا اور آمنہ جس قدر اکھڑ مزاج تھی‘ اسی قدر لہجہ اور انداز گفتگو اکھڑ تھا۔
’’بجو ! تمہیں خیال رکھنا چاہئے‘ وہ ابھی بچی ہے تم ابھی سے اسے سمجھائو کہ ہمیں اس گھر میں کس طرح زندگی بسر کرنی ہے۔ ہمیں پپا جی کے اصول و قوانین کی کس طرح پابندی کرنا ہے۔‘‘
’’یہ کیا صبح ہی صبح اصول و قوانین کی گردان شروع کر دی ہے‘ آرہی ہوں۔‘‘ سجیلہ نے تولیے سے منہ صاف کرتے ہوئے تیز نظروں سے آمنہ کو دیکھا۔ سجیلہ اور آمنہ کی ویسے بھی کم ہی بنتی تھی۔ ’’بے بی ! اب تم اتنی بھی بچی نہیں ہو کہ سمجھ نہ سکو‘ اچھی طرح جانتی ہو کہ…‘‘ ’’اچھا پلیز ! صبح سویرے ہی لیکچر دینا نہ شروع کر دینا‘ سارا موڈ غارت ہو جاتا ہے۔ ہماری زندگی میں سوائے اصول و قوانین کے ہے ہی کیا۔ صبح کا ناشتہ ہو یا رات کا کھانا بس اصول‘ پابندیاں اور سختیاں۔‘‘ بالوں میں برش کرتے ہوئے سجیلہ نے ترش لہجے میں کہا تو فاطمہ پریشان ہو گئیں کیونکہ انہیں خوف تھا کہ آمنہ اور سجیلہ میںتکرار نہ شروع ہو جائے۔ ’’اچھا… اچھا بے بی ! اب صبح سویرے کوئی موڈ تو آف نہیں کرنا ناں‘ اللہ بہتر کرے گا۔ چلو اب چلتے ہیں نیچے۔‘‘ فاطمہ نے ایک نظر برہم سی کھڑی آمنہ پر ڈالی اور پھر سجیلہ کے قریب آ کر بولیں۔ ’’ہونہہ!‘‘ آمنہ نے مزید کچھ کہنا شاید ضروری نہ جانا اور دھم دھم کرتی سیڑھیاں اتر گئی۔ آج اسے اٹھنے میں و اقعی دیر ہو گئی تھی اور پھر تیاری میں وقت لگ گیا۔ اتنا کہ یونیورسٹی کے پوائنٹ کا وقت ہو گیا تھا۔ ناشتہ کرنے کا وقت ہی نہیں بچا۔ ’’سوری پپا ! آئی ایم لیٹ۔‘‘ سجیلہ نے کرسی کھسکاتے ہوئے پپا کو دیکھا‘ جو اسے خشمگیں نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ ’’وائے؟‘‘ انہوں نے بھاری لہجے میں وضاحت طلب کی۔ ’’وہ اس کے امتحان ہو رہے ہیں ناں تو یہ رات کو دیرتک پڑھتی رہی۔ پپاجی‘ اس لئے دیر سے سوئی اور دیر سے آنکھ کھلی۔‘‘ سجیلہ کے بجائے فاطمہ نے جواب دیا تو فاروق احمد نے اتنی تیز نظروں سے اسے دیکھاکہ فاطمہ کے ہاتھوں میں چائے کا کپ لرز گیا۔ ’’فاطمہ ! آئندہ ایسا نہ ہو‘ جس سے پوچھا جائے‘ وہی جواب دے‘ انڈر اسٹینڈ!‘‘ ’’سوری پپا جی ! آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔‘‘ فاطمہ نے چھلک جانے والی چائے کو ٹشو پیپر سے صاف کرتے ہوئے عہد کیا کہ آئندہ یہ گستاخی نہ ہو گی۔ ’’بے بی ! تمہارے پپا نے تم سے کچھ پوچھا تھا!‘‘ صوفیہ بیگم نے سجیلہ کی طرف دیکھا‘ جو اتنی معمولی بات کو اتنی اہمیت دیئے جانے پر کڑھ رہی تھی۔ ’’جی‘ بجو نے درست کہا ہے کہ امتحان کی وجہ سے دیر تک پڑھتی رہی اس لئے۔‘‘ اس نے لہجے کو بمشکل نارمل کرتے ہوئے آہستگی سے کہا۔ ’’کیا ضرورت تھی اتنی دیر پڑھنے کی؟‘‘ ’’سجیلہ بی بی ! آپ کی بس آ گئی ہے‘ میں نے ڈرائیور کو روکا ہے‘ جلدی سے آ جائیں۔‘‘ اس سے قبل کہ وہ راحیل بھائی کے سوال کا جواب اور ہی انداز میں دیتی‘ رشید نے پوائنٹ کی آمد کی اطلاع دی تو اس نے بیگ شانے سے لٹکایا اور فائل ہاتھوں میں پکڑ کر تیزی سے طویل لان کو عبور کرتے ہوئے پوائنٹ کے پچھلی طرف سے پچھلی سیٹ پر بیٹھی اور پھر… ایک طویل گہرا سانس فضا میں خارج کیا اور کچھ دیر کیلئے آنکھیں بند کر کے آزاد فضا کا احساس دل میں اتارنے لگی۔ دنیا کتنی خوبصورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کتنی حسین کائنات کو تخلیق کیا ہے۔ کتنا حسن ہے۔ یہاں روز ہی جب وہ گھر سے یونیورسٹی جانے کیلئے نکلتی تو اسے کائنات کے حسن اور خالقِ کائنات‘ خدائے واحد پر بے اختیار پیار آ جاتا۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا۔ زور سے جھٹکا لگا‘ اس کی کمر میں ٹوٹے پھوٹے پوائنٹ کی سیٹ کی پشت زور سے لگی مگر اسے تکلیف کے بجائے ایک سکون محسوس ہوا۔ خستہ حال اور ٹوٹے پھوٹے یونیورسٹی کے اس پوائنٹ میں بیٹھ کر وہ خود کو دنیا کی خوش نصیب ترین لڑکی سمجھتی‘ جو راحت اسے اس بس میں بیٹھ کر ملتی‘ وہ تو اپنی انتہائی قیمتی ایئر کنڈیشنڈ گاڑی میں بھی نہیں ملتی تھی۔ حالانکہ پپا نے بارہا اسے اپنی گاڑی پر یونیورسٹی جانے کی ہدایت کی تھی‘ مگر وہ پوائنٹ کی لذتوں سے محرومی کہاں برداشت کر سکتی تھی۔ اس نے ایک نظر سرخ بدحال پوائنٹ پر ڈالی۔ سیٹیں اکھڑی ہوئیں‘ پکڑنے والا ڈنڈا ندارد‘ انجن کھڑکھڑ کرتا ہوا‘ بس یہ تو قدرت کے سہارے چلتے ہیں۔ اس نے مسکرا کر سوچا۔
پھر اس کی نظر کچھ کھڑے‘ کچھ بیٹھے اپنے طالب علم ساتھیوں پر پڑی۔ کتنے خوش و خرم اور مطمئن سے تھے۔ تمام چہرے کھلے‘ کھلے اور بے فکرے… نہ جانے ان کے گھروں کے ماحول بھی میری طرح ہوتے ہیں‘ ان کی زندگیاں بھی… پابند سلاسل ہوتی ہیں‘ یہ بھی اصول و قوانین کی زنجیروں میں جکڑے ہوتے ہیں یا پھر یہ اور طرح کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ نہ جانے کسی کے گھر کا کیسا ماحول ہوتا ہے‘ جیسا بھی ہوتا ہو کم از کم میرے گھرانے سے تو بہتر ہو گا۔ وہ مختلف چہروں کو دیکھتے ہوئے پس منظر میں اپنے گھر کے ماحول کو دیکھ رہی تھی۔ ’’السلام علیکم !‘‘ نہ جانے کب سٹاپ آیا‘ کب پوائنٹ رکا اور کب حنا اس کی بہترین دوست اس کے برابر آکر دھم سے بیٹھ گئی۔ ’’السلام علیکم بھئی ! مجھے تو پتا بھی نہیں چلا کہ کہاں کھڑی تھیں‘ میں نے تو تمہیں نہیں دیکھا۔‘‘ وہ حنا کو روز ہی دیکھ کر اسی طرح خوش ہوا کرتی۔ گویا عرصے بعد مل رہی ہو۔ ’’میں وہیں کھڑی تھی۔ آپ کو دیکھ کر ہاتھ بھی ہلایا تھا مگر جناب جانے کہاںگم تھیں۔‘‘ حنا مسکرائی تو سجیلہ کھلکھلا کر ہنس دی۔ یہ اس کی مخصوص ہنسی تھی وہ کھل کر ہنستی تھی۔ باہر نکل کر بات بے بات زور دار قہقہہ لگا کر ہنستی اور اتنی باتیں کرتی کہ پورے ڈیپارٹمنٹ میں باتونی مشہور تھی۔ ’’السلام علیکم رمضان صاحب!‘‘ سب سے پہلے اپنے ڈیپارٹمنٹ کے چپڑاسی کو سلام کرنا‘ حال احوال پوچھنا‘ تمام ملازمین کی خیریت معلوم کرنا اس کے اخلاق اور روز کے معمولات میں شامل تھا۔ ہر ایک سے اتنے خلوص سے پیش آتی کہ اگلا اپنے آپ کو معتبر سمجھتے لگتا۔ ’’ٹھیک ہوں بیٹی مگر…!‘‘ ’’ہائے مگر کیا رمضان صاحب؟‘‘ اس کے بڑھتے قدم رک گئے۔ ’’کچھ نہیں‘ کئی روز سے بچہ بیمار ہے۔‘‘ ’’اوہو تو آپ نے اسے ڈاکٹر کو دکھایا کہ نہیں… اور ابھی تو آپ کو تنخواہ بھی نہیں ملی ہو گی‘ آپ یہ رکھ لیجئے۔‘‘ اس نے جھٹ سو روپے نکال کر رمضان بابا کے ہاتھ پر رکھ دیئے تو وہ نادم سے ہو گئے۔ ’’بیٹی ! میں نے اس لئے تو نہیں بتایا تھا کہ…‘‘ ’’آپ رکھئے‘ سر آرہے ہیں‘ میں بعد میں آپ سے بات کروں گی۔‘‘ سجیلہ اور حنا سر محسن کو آتے ہوئے دیکھ کر جلدی سے آگے بڑھ گئیں تو رمضان بابا اسے دعائیں دیتے رہے‘ مگر وہ اس وقت سن نہیں رہی تھی‘ لیکن جب وہ اس کے سامنے اسے ہمیشہ خوش رہنے کی دعائیں دیتے… تو وہ اتنے زور سے ہنستی کہ بابا حیران رہ جاتے۔ نہ جانے کیوں ان کو اس کی ہنسی بہت مایوس اور کھوکھلی سنائی دیتی۔ ’’ہیلو آصف کیسے ہو؟‘‘ وہ دونوں سر کو سلام کرنے کے بعد آگے بڑھیں تو کلاس فیلو آصف سے ملاقات ہو گئی۔ ’’ہیلو یار ! کہاں تھیں تم دونوں؟ تم دونوں تو ایسے غائب ہو جاتی ہو‘ جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔‘‘ ’’ہوں تو گویا ہم دونوں تمہارے سینگ ہیں جن کے غائب ہو جانے سے لوگوں کو تم سینگوں کے بغیر لگنے لگتے ہو‘ وہی جس کا تم نے ابھی نام لیا تھا۔‘‘ سجیلہ کی شوخ بات پر آصف سر کھجا کر رہ گیا اور حنا ہنسنے لگی۔ ’’یار ! تم تو کبھی بھی سنجیدہ نہیں ہوتیں۔‘‘ آصف زچ ہو گیا۔ ’’ارے بھئی آصف ! کون سی ایسی آفت ٹوٹی ہے‘ جس نے تمہیں اس حد تک سنجیدہ کر دیا ہے؟‘‘ حنا نے شانے سے بیگ اتار کر برآمدے کے فرش پر رکھا اور سجیلہ کے ساتھ ہی فری سٹائل میں بیٹھتے ہوئے بولی۔ ’’وہ اپنے سر سجاد ہیں ناں!‘‘ ’’نہیں۔‘‘ دونوں نے شوخی سے اسے مزید تنگ کیا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کٹھن ہے راہ گزر تھوڑي دور ساتھ چلو


کٹھن ہے راہ گزر تھوڑي دور ساتھ چلو
بہت کڑا ہے سفر تھوڑي دور ساتھ چلو

تمام عمر کہاں کوئي ساتھ ديتا ہے
يہ جانتا ہوں مگر تھوڑي دور ساتھ چلو

نشے ميں چور ہوں ميں بھي تمہيں ہوش نہيں
بڑا مزہ ہو اگر تھوڑي دور ساتھ چلو



يہ ايک شب کي ملاقات بھي غنيمت ہے
کسے ہےکل کي خبر تھوڑي دور ساتھ چلو

ابھي تو جاگ رہے ہيں چراغ راہوں کے
ابھي ہے دور سحر تھوڑي دور ساتھ چلو

طواف منزل جاناں ہميں بھي کرنا ہے
فراز تم بھي اگر تھوڑي دور ساتھ چلو  

ٹیلی گرام -از جوگندر پال

پچھلے بارہ برس سے شیام بابوتار گھر میں کام کررہا ہے ، لیکن ابھی تک یہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی کہ یہ بے حساب الفاظ برقی تاروں میں اپنی اپنی پوزیشن میں جوں کے توں کیوں کربھاگتے رہتے ہیں ، کبھی بدحواس ہوکرٹکر کیوں نہیں جاتے ؟ ٹکراجائیں تو لاکھوں کروڑوں ٹکراتے ہی دم توڑدیں اورباقی کے لاکھوں کروڑوں کی قطاریں ٹوٹ جائیں تو وہ اپنی سمجھ بوجھ سے نئے رشتوں میں منسلک ہوکرکچھ اس حالت میں ری سیونگ سٹیشنوں پر پہنچیں ” بیٹے نے ماں کو جنم دیا ہے سٹاپ مبارک یاد !“یا”چوروں نے قانون کو گرفتار کرلیا ہے ۔“ یا ” افسوس کہ زندہ بچہ پیدا ہوا ہے ۔“یا ........ہاں اس میں کیا مضائقہ ہے ؟ ........شیام بابو مشین کی طرح بے لاگ ہوکر میکانکی انداز میں برقی پیغامات کے کوڈ کو رومن حروف میں لکھتا جارہا ہے لیکن اس مشین کے اندر ہی اندر ان بوکھلائی ہوئی انسانی سوچوں کا تالاب بھر رہا ہے ........کیا مضائقہ ہے ؟
 جیسی زندگی ، ویسے پیغام ........” کرتا ہوں سٹاپ کشور “ اس نے کسی کشور کے تار کے کوڈ ے آخری الفاظ کاغذ پر اتار لئے ہیں اوروہ اس بات سے برآمد ہوتے ہوئے ایک ایک لفظ کوقلم بند کرتا جائے ۔ سوچنا سمجھنا اس کا کام ہے جس کے نام پیغام موصول ہوا جو ........دھیرج !.... دھیرج کو کوئی پکارے تو آواز کو تو سارا ہجوم سن لیتا ہے لیکن صرف دھیرج ہی مڑ کردیکھتا ہے کہ کیا ہے ........خلاف معمول نہ معلوم کیا سوچ کر شیام بابوتار کا مضمون پڑھنے لگا ہے ........”شادی روک لو سٹاپ میں تم سے بے انتہا محبت کرتا ہوں سٹاپ کشور “ وہ ہنس پڑا ہے ........و دوسرے ہنگامے میں ۔ بے چارہ تھوڑی سی محبت کرکے باقی محبت کرنا بھول گیا ہوگا ، مگر اب کوئی راہ نہیں سوجھ رہی ہے تو باقی سب کچھ چھوڑ چھاڑکر محبت ہی محبت کئے جانے کا اعلان کررہا ہے ۔محبت ہی محبت کرنے سے کیا ہوتا ہے بے بی ؟طلاق ، ڈارلنگ !طلاق ہوجائے مگر محبت قائم رہے ۔اور۔!........شیام بابو ای اور تار کا یہ مضمون پڑھنے لگا ہے ........میں آپ کو موت کی خبر پاکرمجھے بے حد دکھ ہوا ہے ........شیام بابو پھرہنس دیا ہے ۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں ، اپنے باپ کی موت پر مجھے اتنا افسوس ہوا ہے کہ لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا ۔تو کیوں کررہے ہو بھائی ؟تاکہ میرا رونا نکل آئے ۔ آئیے ،آپ بھی میرے ساتھ روئیے ۔سمجھ میں نہیںآرہا ہے کہ بندروں کو چپ کیسے کرایا جائے ۔ سب کے سب روتے ہی چلے جارہے ہیں ۔ارے بھائی ،کیوں رو رہے ہو ؟مجھے کیا پتہ ؟ اس سے پوچھو ۔تم ہی بتا دوبھائی ، کیوں رو رہے ہو ؟مجھے کیا پتہ ؟ اس سے پوچھو ۔تم ............؟مجھے کیا پتہ ؟تم تو آخری بندر ہو بھائی ....بتاؤ ، کیوں رو رہے ہو ؟۔ بس یوں ہی سوچا کہ ذرافرصت میسر آئی ہے تو ایک بارجی جان سے رولوں ۔ میرا ایک کام کیجئے ۔ آپ کو زحمت تو ہوگی ، مگر میرے رونے کو کسی تگڑی سی الم ناک خبر میں پیش کرنے کے لئے ایک ارجنٹ ٹیلی گرام کا ڈرافٹ تیار کردیجئے لکھئے ........میری ماں مرگئی ہے ........ٹھہرئیے ، وہ تو غریب اسی روز مرگئی تھی جب بیوہ ہوئی تھی اس دن سے ہم نے اس کی طرف دھیان ہی نہیں دیا ........لکھئے ، میرا بھائی مرگیا ہے ........ہاں ، یہی لکھئے ........مگر نہیں ، سب کو معلوم ہے کہ ہماری آپس میں بالکل نہیں نبتی ........میری بہن ........نہیں ،وہ تو پہلے ہی مرچکی ہے ........میں ........ارے ہاں ! یہی لکھئے ،میں ہی مرگیا ہوں ۔ مجھے سب کو فوری طورپر خبر کرنا ہے کہ میں ہی مرگیا ہوں ۔مبارک باد پیش کرتا ہوں سٹاپ ........شیام بابو کے خود کار قلم نے جلدی جلدی لکھا اوروہ اپنی تحریری سے بے خبر سا سوچ رہا ہے ، مجھے دیکھ کرکون کہہ سکتا ہے کہ میں زندہ ہوں ۔ میں زندہ ہوں تو یہ میز بھی زندہ ہے جس پرجھک کر میں اپنا کام کئے جارہا ہوں ۔ چونکہ یہ میز کھائے پئے سوئے بغیر زندہ رہ سکتی ہے ۔ اس لئے اس کی ڈیوٹی یہ ہے کہ ہمارے دفتر کے اس کمرے میں چوبیس گھنٹے خدمت بجا لانے کے لئے اپنی چاروں ٹانگوں پر کھڑی رہے ، اورمجھے چونکہ اپنی مشین کی ٹک ٹک کو بھی چلائے رکھنا ہوتا ہے اس لئے میرے لئے یہ آرڈر ہے کہ آٹھ گھنٹے یہاں ڈٹ کرکام کرو او ر باقی وقت میں اپنی مشین کی دیکھ بھال کے سارے دھندے سنبھالو ........ہاں ، یہی تو ہے ۔ میں جیتا کہاں ہوں ؟ دفتر میں تو صرف پروڈیکشن کا کام ہے ۔ مشین چلنا بند ہوجائے تو پروڈیکشن پر برا اثڑ پڑے گا ۔ اس لئے سارے دفتری ٹائم میں تو مشین یہاں چلتی رہتی ہے اوراس کے بعد مجھے ہر روز ساری مشین کو کھول کرصاف کرنا پڑتا ہے ، اس کی آئیلنگ گریزنگ کرنا پڑتی ہے ،اس کے ایک ایک ڈھیلے پرزے کو کسنا پڑتا ہے ........اور یہ سارا کام بھی مجھے اکیلے ہی انجام دینا ہوتا ہے ۔پچھلے ساڑھے سات برس سے،جب سے شیا م بابو کی شادی ہوئی ہے ،اس کی بیوی وہیں اپنے ماں باپ کے گاؤں میںان ہی کے ساتھ رہ رہی ہے ۔ شادی کے موقع پر وہ اس کی ڈولی اٹھواکر گاؤں سے باہر تولے آیاے ، لیکن پھر جب سمجھ میں نہ آیا کہ اسے کہاں لے جائے تو ڈولی کا مونسہ واپس گاؤں کی طرف مڑوالیا ........یہ تم نے بہت اچھا کیا بیٹا ........اس کی ساس نے کہا تھا ........کہ ایک بارہماری بیٹی کو گاؤں سے باہر لے گئے ۔ کم سے کم رسم تو پوری ہوگئی ۔ اب چاہو تو بے شک ساری عمر یہیں رہے ۔ یہ گھر بھی تو اسی کا ہے ........لیکن اس کا کوئی اپنا گھر کیوں نہیں جہاں اسے وہ لے آتا تو اس میں بوئی ہوئی انسانیت کی آبیاری ہوتی رہتی ۔شروع شروع میں تو شیام با بو کی بے چینی کا یہ عالم تھا کہ سوتے میں بھی بیوی کے گاؤں کا رخ کئے ہوتا ........تم گھبراؤ نہیں سنیہ دتی ۔ میں دن رات کرائے پر کوئی اچھا سا کمرہ لینے کی مہم میں جٹا ہوا ہوں ۔ جیسے ہی کوئی مل گیا ، تمہیںاسی دم یہاں لے آؤں گا ........مگر برا ہو اس بڑے شہر کا ،جو اپنے چھوٹے دل میں ایک کے اوپر ایک کئی کمرے بنائے ہوئے ہے مگر اتنی اونچائی پررہائش کے کرائے کے خیال سے اسے یہاں رہنے کی بجائے یہاں سے لڑھک کر خود کشی جءسوجھتی ہے ۔ پورے ساڑھے سات برس اسی طرح گزر گئے ہیں ۔ وہ میاں اور بیوی ساڑھے پانچ سو میں کے فاصلے پر وہاں ۔شیام بابو میں کم تین سو پینسٹھ دن تک اپنی بیس دن کی ارنڈ لیو کا انتظار کرتا رہتا اور وقت آنے پر گاڑیوں ، بسوں اور تانگوں کو بدل بدل کر وہ گویا اپنے دو پیروں سے سرپٹ بھاگتے ہوئے وہاں جا پہنچتا اوراس کی خواہش اتنی شدید ہوتی کہ اپنی تیار بیٹھ ہوئی بیوی پروہ بے اختیار کسی درندے کی طرح ٹوٹ پڑتا ۔ ایک ........دو ............تین سال تک تو وہ ہرسال گیا ، لیکن چوتھے سال عین چھٹی کے دنوں میں وہ بیمار ہوگیا ، پھر پانچویں سال جوجانا ہوا تو اس کے بعد ڈھائی سال میں ایک بار بھی نہیں جاسکا ۔ جو پیسے وہاں جانے میں ضائع ہوں گے ۔ان میں سے آدھے بھی منی آرڈر کرادوں گا تو بیسیوں کام نکال لے گی ........ہاں ، اس کا ایک دو سالہ لڑکا بھی ہے جس کے بارے میں اس کی بیوی نے اسے لکھاتھا کہ وہ اسے اپنی پانچویں سال کی چھٹی پر اس کی کوکھ میں ڈال آیا تھا ؒ۔ لیکن شیام بابو اپنا حساب کتاب کرکے اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ اس کا بیٹا اس کا بیٹا نہیں ۔ شاید اسی وجہ سے ڈھائی سال کے اس عرصے میں وہ ایک بار بھی اس کے پاس نہیں گیا تھا ۔ لیکناس سلسلے میں اس نے بیوی کو کبھی کچھ نہیں لکھا ہے ........جوہے سو ٹھیک ہے ........وہ بھی کیا کرے ؟ اور میں بھی کیا کروں؟........کبھی اچھے دن آگئے تو سب اپنے آپ ٹھیک ہوجائے گا۔ اسے اور اس کے ........ہمارے بچے کو ........اس کا ہوا تو ہم دونوں کا ہی ہوا ........یہیں اپنے پاس لے آؤں گا ........اور پھر ہم چین سے رہیں گے ، بڑے چین سے رہیں گے ۔اس کے دفتر کا کوئی ساتھی اس کا کندھا جھٹک رہا ہے ۔ مشین میں شاید کوئی نقص پیدا ہوگیا ہے اور وہ رکی پڑی ہے ........شیام بابو!آں ............ں!........شیام بابو نے ہڑبڑا کر اپنی آنکھیں کھول لی ہیں ۔طبیعت خراب ہے تو گھرچلے جاؤ۔کون سا گھر؟ نہیں ٹھیک ہوں ، یوں ہی ذرا اونگھنے لگا تھا ........ٹک ٹک ........ٹک ........ٹک !میشن پھر چلنے لگی ہے ۔تمہارے لئے پانی منگواؤں ؟ارے بھائی ،کہہ دیا نا ، ٹھیک ہوں ۔اس کے ساتھی نے تعجب سے اس کے کام پر جھکے ہوئے سر کی طرف دیکھا ہے اور اپنے کام میں الجھ گیا ہے ۔شیام بابو کو اپنا جی اچانک بھر ابھراسا لگنے لگا ہے ۔ عام طور پر تو یہی ہوتا ہے کہ اسے اپنی خوشی کی خبر ہوتی ہے نہ اداسی کی ۔ اسے بس جو بھی ہوتا ہے بے خبری میں ہی ہوتا ہے ۔ اے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کررہا ہے اور یوں ہی سب کچھ بخوبی ہوتا چلا جاتا ہے ۔ وہ بے خبر سا اپنے آپ دفتر میں آپہنچتا ہے اور اسی حالت میں سارے دن قلم چلا چلا کر اپنے ٹھکانے پر لوٹ آتا ہے اورپھر دوسرے دن صبح کو عین ویسے کا ویسا ڈیوٹی پرآبیٹھتا ہے ۔ یعنی معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کون ہے ، کیوں ہے ، کیا ہے ؟ ............ کوئی ہو تو معلوم بھی ہو ........اس دن تو حد ہوگئی : وہ یہاں اپنی سیٹ پر بیٹھا ہے اور اس کا باس یہاں اس کے قریب ہی کھڑا پوچھ رہا ہے ، بھئی ، شیام بابو آج کہاں ہے ؟شیام بابو ........شیام بابو!........ شیام بابو یقینی طورپر اس کی آواز سن رہا ہے ، مگر سن رہا ہے تو فوراً ، جواب کیوںنہیں ہیں دیتا ........۔ س سر!........ایسے بھولے بھٹکے چہرے شاید ہماری آنکھوں میں ٹھہرنے کی بجائے روحوں میں لڑھک جاتے ہیں ۔ ان سے مخاطب ہونا ہو تو اپنے ہی اندر ہولو ، پنی ہی تھوڑی سے جان سے انہیں زندہ کرلو، ورنہ یہ تو جیسے ہیں ویسے ہی ہیں ۔گوشت کو رگوں میں خون دوڑنے کی اطلاع ملتی رہے تو یہ زندہ رہتا ہے ، ورنہ بے خبری میں مٹی ہوجاتا ہے ۔ جب شیام بابو کی اپنی زندگی بے پیغام ہے تو اسے کیسے محسوس ہوکہ ٹیلی گراموں کے ٹیکسٹ برقی کوڈ کی اوٹ میں کھلکھلا کر ہنس رہے ہیں ، یادھاڑیں مار مارکررو رہے ہیں ف، یا تجتس سے اکڑے پڑے ہیں ۔ سوکھی مٹی کے دل پر آپ کچھ بھی لکھ دیجئے ، اے اس سے کیا ؟ شیام بابو کو اسے سے کیا ، کہ کوئی کسے کیا پیغام بھیج رہا ہے ؟ اس کی قسمت میں تو کسی کا پیغام نہیں ، محبت کا یانفرت ، خوشی یا غم کا ........اسے کیا ؟ ................ٹیلی گراموں کے گرم گرم ٹیکسٹ کا کوڈ اس کے ٹھنڈے قلم سولی سے لٹک کر سپاٹ سی صورت لئے کاغذ پر ڈھیر ہوتا رہتا ہے ........یہ لو ، الفاظ تو نرے الفاظ ہیں ،بس الفاظ ہیں ، الفاظ کیوں ہنسیں یا روئیں گے ؟ ان کو پڑھ کے ہنسو ، روؤ، یا جو بھی کرو ، تم ہی کرو ............یہ لو !لیکن اس وقت یہ ہے کہ شیام بابو کو اپنا جی یک بارگی بہت بھرا بھرا لگنے لگا ہے ۔ سوچوں کا تالاب شاید بھر بھر کے اس کے دل تک آپہنچا ہے اور وہ انجانے میں تیرنے لگا ہے اور سوکھی مٹی میں جان پڑنے لگی ہے ۔............سٹاپ میں بدیس سے لوٹ آیا ہوں سٹاپ ........اور عین اس وقت صاحب کے چپراسی نے اس کی آنکھوں کے نیچے ہیڈ آفس کا ایک لیٹر رکھ دیا ہے ۔ اس نے لیٹر پر نظر ڈالی ہے اور پھر چونک کر خوشی سے کانپتے ہوئے اسے دوبارہ پرھنے لگا ہے ۔ اسے سرکاری طور پر اطلاع دی گئی ہے کہ تمہارے نام دو کمروں کا کوارٹر منظور ہوگیا ہے !کیدار بابو ........جمیل........کشن !........ادھر دیکھو دوستو ۔ دیکھو ، میرا کیا لیٹر آیا ہے ؟کیا کیا ہے؟ میرا کوارٹر منظور ہوگیا ہے !تو کیا ہوا ؟........بائیں ، کیا کہا ................کوارٹر منظور ہوگیا ہے ؟!ہاں !بہت اچھا !........بہت اچھا ! سب کے لئے چائے ہوجائے شیام بابو !ارے چائے ہی کیاع ، کچھ ادھارے دے سکتے ہوتو جو چاہو منگوالو۔ہاں ، تم فکر نہ کرو۔ میں سارا بندوبست کئے دیتا ہوں ........یہ تو بہت ہی اچھا ہوگیا شیا م بابو!........رامو........ادھر آؤ رامو، جاؤ ہوٹل والے کو بلالاؤ ........جاؤ........اب بھابی کو کب لارہے ہو شیام بابو؟آج چھٹی کی درخواست دے کرہی جاؤں گا کیدار بابو! ........شیا م بابو قصور میں اپنے کوارٹر میں بیٹھا کھانا کھا رہا ہے اور اس کے کندھوں پر اس کا لڑکا کھیل رہا ہے ........کیا نام ہے اس کا ؟........دیکھو ناع ، دماغ پر زورڈالے بغیر اپنے اکلوتے بچے کا ............اپنا ہی تو ہے ............نام بھی یاد نہیں آتا ۔ کوئی بات نہیں شکر اور دودھ کھلتے ملتے ہی گاڑھے اور میٹھے ہوجاتے ہیں ............اری سن رہی ہو بھلی لوگ ؟اگلی چپاتی کب بھیجوگی ؟ دفتر کے لئے دیر ہورہی ہے ۔لو ، شیام بابو ، ہوٹل والا توآگیا ہے ........بس ایک ایک چاٹ ، ایک ایک گلاب جامن اور کیا؟ ایک ایک سموسہ ........چلے گا ناشیا م بابو؟........ لکھو ہمارا آرڈر بھائی پر نانند!شیا م بابو کو پتہ ہی نہیں چلا ہے کہ دفتر میں باقی سارا وقت کیسے بیت گیا ہے ۔ وہاں سے اٹھنے سے پہلے اسنے سب ساتھیوں سے وعدہ کیا ہے کہ کل سویرے وہ ان سب کو ان کی بھابی کی تصویر دکھائے گا ۔اتنی بھولی ہے کہ ڈرتا ہوں اس شہر میں کیسے رہے گی ۔ڈرومت شیام بابو۔ بھابی کو لانا ہے تو اب شیربیر بن جاؤ ۔دفتر سے نکل کر تیز تیز قدم اٹھائے ہوئے شیام بابو چوراہے پر آگیا ہے اور پان اور سگریٹ لینے کے لئے رک گیا ہے ........ اور پھر تمباکو والے پان کا لعاب حلق سے اتارتے ہوئے نتھنوں سے سگریٹ کا دھواں بکھیرتے ہوئے ہلکی ہلکی سردی میں حدت محسوس کرتے وہ بڑے اطمینان سے اپنے رہائش کے اڈے کی طرف ہولیا ........ایک چھوٹی سی کھولی جس میں مشکل سے ایک چارپائی آتی ہے ۔ ابھی پچھلے ہی مہینے خان سیٹھ نے اسے دھمکی دی تھی بھاڑے کے دس روپے بڑھاؤ ، نہیں تو چلتے بنو ........ہاں !چوہے کے اس بل کا کرایہ پہلے ہی پچاس روپے وصول کرتے ہو خان سیٹھ ۔ اپنے خدا سے ڈرو !لیکن خان سیٹھ نے اپنے خدا کو ڈرانے کے لئے ایک بھیانک قہقہہ لگایا ........بلی شریف نہ ہوتی بابو ، تو بولو ، کیا ہوجاتا ؟ ........ ساٹھ روپے ، نہیں توخالی کرو ............ہاں !اسی مہینے خالی کردوں گا اور سیٹھ سے کہوں گا ، لو سنبھالو اپنی کھولی خان سیٹھ ۔ تمہاری قبر کی پورے سائز کی ہے ........ لو!........نہیں جھگڑے وگرے کا کیا فائدہ ؟ چپکے سے اس کی کھولی اس کے حوالے کرکے اپنی راہ لوں گا ۔بس سٹاپ آگیا ہے اور بس بھی کھڑی ہے ، لیکن بہت بھری ہوئی ہے ۔ شیام بابو نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ پیدل ہی جائے گا ۔ یہاں سے تھوڑ ہی فاصلہ تو ہے ........ اس کا سگریٹ جل جل کر انگلیوں تک آپہنچا ہے ، لیکن ابھی اس کی خواہش نہیں مٹی ہے ۔اس نے ہاتھ کا ٹکڑا پھینک کر ایک اورسگریٹ سلگالیا ہے ............ساوتری کو میری سگریٹ پینا بالکل پسند نہیں ........ پیسے بھی جلاتے ہو اور پھیپھڑے بھی ۔ اس سے تو اچھا ہے میرا ہی ایک سرا جلا کر دوسرے کو ہونٹوں میں دبالو اور دھواں چھوڑتے جاؤ ! میرا مزہ کیا سگریٹ سے کم ہے ؟ ........اری بھلی لوگ ، ایک تمہارا ہی مزہ تو ہے ۔ سگریٹ و گریٹ کی لت کو گولی مارو ........آؤ!........اس نے خیال ہی خیال میںبیوی کو سینے سے لگالیا ہے۔ اور مخالف سمت سے آتی ہوئی ایک عورت سے ٹکرا گیا ہے ، گویااس کی ساوتری نے اس سے الگ ہونے کے لئے اپنے آپ کو جھٹکا ہو........ارے ! اس نے اندھے پن میں اپنا ہاتھ اس عورت کی طرف پھیلا دیا ہے ........ایڈی اٹ ! وہ عورت غصے سے پھنکارتی ہوئی آگے بڑھ گئی ہے ........ اور شیام بابو شرمنڈہ ہوجانے کے باوجود خوش خوش ہے اور عورت کی پیٹھ کی طرف مونہہ لٹکا کر اس نے بہ آواز بلند کہا ہے ۔ آئی ایم ساری میڈم ۔ لیکن اس عورت کی پھنکار پھر اس کے بند کانوں کے باہرٹکرائی ہے ۔ ایڈ اٹ !شیام بابو اپنے ذہن کو جھاڑ رہا ہے اور اڑتی ہوئی گرد میں اس کی بیوی زور زو ر سے ہنس رہی ہے ............اور ٹکراؤ پرائی عورتوں سے !

 ایک میں ہوں جو بلا روک ٹوک ساری دراز دستیاں سہہ لیتی ہوں ۔ میں اور کی طرف ذرا نظر اٹھا کر دیکھوں ........کسی اور کی طرف ذرا نظر اٹھا کر تو دیکھوں............کسی اور کی طرف دیکھنے کی مجھے ضرورت ہی کیا ہئے ؟ میرے لئے تو بس جو بھی ہو تم ہو ........شیام بابو نے اپنے آپ کو ڈانٹ کر کہا ہے ........نیں ، تم نے اپنی بیوی کے ماتھے پرخواہ مخواہ کلنک کا ٹیکہ لگارکھا ہے ۔ تمہارا بچہ تمہارا ہی ہے........ اور اگر مان بھی لیں کہ وہ تمہارا نہیں ، تو اس میں ساوتری کا کیا دوش ؟اس کا ساراسال تمہاری ارنڈلیو کے دس بیس روز کاتو نہیں ........چل سب ٹھیک ہے ، میرا بچہ میرا ہی ہے ........ہمارے نیٹو کی آنکھیں کی طرح چھوٹی چھوٹی ہیں ۔ ماتھ مجھ پرگیا ہے ، مگر ناک ............میں بھی کیسا باپ ہوں کہ دو سال اوپر کاہولیا ہے مگر میں نے ابھی تک اسے ایک بار بھی نہیں دیکھا ۔ پچھلے سال مجھے ایک چکر کاٹ آنا چاہیے تھا ........آج چھٹی کی درخواست دینا بھی بھول گیا ہوں ۔ اب کل پہلا کام یہی کروں گا اور اس ہفتے کے آخر میں یہاں سے نکل جاؤں گا ............ساوتری کو چٹھی بھی نہ لکھوں گا اوراچانک اس کے سامنے جاکھڑاہوں گا ............ساوتری !............اوروہ آنکھیں مل جل کر میری طرف دیکھتی رہ جائے گی ............ساوتری ............وہ رودے گی ............یہ مجھے کس کی آواز سنائی دی ہے ............ہائے اب تو اٹھتے بیٹھتے تمہاری ہی صورت دکھائی دیتی ہے نیٹو کے بابو ۔ اب تو آجاؤ !............میں آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لوں گا اور وہ میرے بازوؤں میں بے ہوش ہوجائے گی ۔ ساوتری ! ............ ساتری !............اپنی کھولی کے سامنے پہنچ کر اس نے بے اختیار اپنی بیوی کا نام پکارا ہے ۔ لیکن وہاں اس کے تارگھرکے رامونے آگے بڑھ کر اسے جواب دیا ہے ........بابوجی ؟ارے رامو، تم !کیسے آئے ؟............شیام بابو اپنے حواس درست کررہا ہے ۔باجوجی !........رامو کی آواز بھاری ہے اوروہ بولتے ہوئے تامل برت رہا ہے ۔اتنے اکھڑے اکھڑے کیوں ہو؟........بولونا!آپ کا تار لایا ہوں ۔میرا تار ؟ہاں بابوجی ، یہ تار آپ کے ہاتھ سے ہی لکھا ہوا ہے ، مگر آپ کا دھیان ہی نہیں کیا کہ آپ کا ہے ۔تار کا لفافہ ایک طرف سے کھلا ہے لیکن شیام بابو اسے دوسری طرف سے چاک کر رہا ہے ۔ڈسپیچ والے کشن سنگھ کو بھی خیال نہ آیا شیام بابو ، کہ یہ تار آپ کا ہے ۔ شیام بابو نے تار کا فارم کھول کر دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھوں کے سامنے فٹ کرلیا ہے ۔مجھے بھی آدھا راستہ طے کرکے اچانک خیال آیا بابوجی ، ارے ، یہ تار تو اپنے بابوجی کا ہے ............میں اسے پڑھ چکا ہوں : بہت افسوس ہے کہ ................ساوتری نے خودکشی کرلی ہے سٹاپ ............۔

زنانہ اردو خط و کتابت

بلّو کی منگنی ھونے والی ھے۔ میں نے چھیڑا کہ بلّو کا منگیتر پبلشر ھے ، اس لیے انگوٹھی پر "جملہ حقوق محفوظ ھیں" ضرور لکھوائیں
حمّو تو تمھیں یاد ھو گی۔ اس کی شادی پر ھم سب لوگ گئے تھے۔ سنا ھے کہ لڑکے نے اعتراض کیا کہ نہ تو رسوم ادا کی جائیں اور نہ باجا گاجا ھو۔ خاموشی سے سب کچھ ھو جائے۔ توبہ کیسا ھونق لڑکا ھوگا۔ شادی ھو رھی ھے یا کوئی چوری کر رھے ھیں۔ ولایت سے ابھی ابھی آیا ھے، اس لیے دماغ درست نھیں ھے۔ لیکن کون سنتا ھے۔ رسمیں ساری ھوئیں - مانجھے بٹھانا، کنگنا باندھا، مہندی لگانا، مسالہ پسوانا، پانی بھروانا۔ تمھیں خوشی ھو گی کہ مہر تین لاکھ مقرر ھوا ھے اور ڈیڑھ ھزار روپے جیب خرچ لکھا گیا ھے۔ حمّو کتنی خوش نصیب ھے۔ باقی کی رسمیں بھی ادا کی گئیں۔ چوتھی کھیلنا، دلھن کی جوتی دولھا کے کندھے پر لگانا، آرسی مصحف کرنا، دولھا کے سر پر بہنوں کا آنچل ڈالنا، دولھا کو زعفران کے بہانے مرچیں کھلا دینا، دولھا کے جوتے چرا لینا، پھر دولھا کو الٹی چارپائی سے گرا دینا، اس کی شیروانی پلنگ سے سی دینا، میراثنوں کا بیھودہ گانے گانا، بڑا لطف رھا۔ دولھا بھی ایک چغد نکلا۔ جنم نہ دیکھا بوریا سپنے آئی کھاٹ۔ سنا ھے کہ نکاح کے فوراً بعد کہیں فرار ھو گیا۔ بڑی مشکلوں سے ڈھونڈ کر لائے۔ پتہ نہیں اّج کل کے لڑکے کیسے ھو گئے ھیں۔ یھی رسومات تو قوموں کے زندہ رھنے کی نشانیاں ھیں۔ دولھا نے مہر میں بھی مین میخ نکالی کہ بیس ھزار کا جو جھیز لڑکی کو دے رھے ھیں یہ اپنے پاس رکھئے اور تین لاکھ کی رقم کم کر کے مہر کو اور کچھ نہیں تو دو لاکھ اسّی ھزار ھی کر دیجیے۔ لاحول ولا قوۃ


شفیق الرحمٰن کی "مزید حماقتیں" سے اقتباس

میں اور میری آوارگی

پھرتے ہیں کب سے دربدر، اب اس نگر اب اُس نگر اک دوسرے کے ہمسفر، میں اور میری آوارگی ناآشنا ہر رہگزر، نامہرباں ہر اک نظر جائیں تو اب جائیں کدھر، میں اور میری آوارگی ہم بھی کبھی آباد تھے ایسے ۔۔۔ کہاں برباد تھے بےفکر تھے، آزاد تھے، مسرور تھے، دلشاد تھے وہ چال ایسی چل گیا ہم بجھ گئے دل جل گیا نکلے جلا کے اپنا گھر، میں اور میری آوارگی جینا بہت آساں تھا، اک شخص کا احسان تھا ہم کو بھی اک ارمان تھا جو خواب کا سامان تھا اب خواب ہے نہ آرزو، ارمان ہے نہ جستجو یوں بھی چلو خوش ہیں مگر میں اور میری آوارگی وہ مہوش وہ ماہ رو، وہ ماہِ کامل ہوبہو تھیں جسکی باتیں کوبکو، اس سے عجب تھی گفتگو پھر یوں ہوا وہ کھو گئی تو مجھکو ضِد سی ہوگئی لائیں گے اسکو ڈھونڈ کر میں اور میری آوارگی یہ دل ہی تھا جو سہہ گیا وہ بات ایسی کہہ گیا کہنے کو پھر کیا رہ گیا، اشکوں کا دریا بہہ گیا جب کہہ کے وہ دلبر گیاترے لئیے میں مر گیا روتے ہیں اسکو رات بھر، میں اور میری آوارگی اب غم اٹھائیں کس کے لئیے، آنسو بہائیں کس کے لئیے یہ دل جلائیں کس کے لئیے، یوں جان گنوائیں کس کے لئیے پیشہ نہ ہو جسکا ستم، ڈھونڈیں گے اب ایسا صنم ہوں گے کہیں تو کارگر، میں اور میری آوارگی آثار ہیں سب کھوٹ کے، امکان ہیں سب چھوٹ کے گھر بند ہیں سب گھٹ کے، اب ختم ہیں سب ٹوٹ کے قسمت کا سب یہ پھیر ہے، اندھیر ہے اندھیر ہے ایسے ہوئے ہیں بےآثار، میں اور میری آوارگی جب ہمدم و ہمراز تھا تب اور ہی انداز تھا، اب سوز ہے تب سازتھا، اب شرم ہے تب ناز تھا اب مجھ سے ہو تو ہو بھی کیا، ساتھ ہو وہ تو وہ بھی کیا اک بے ہنر، اک بےثمر، میں اور میری آوارگی

اک مسیحا کی دعا

زمیں پر یوں میرا ہونا بڑا احسان ہے تیرا
میرے مالک، میرے مولا بڑا احسان ہے تیرا
مجھے تونے مسیحائی کی دولت سے نوازا ہے
میرے ہاتھوں کو تونے درد کا درماں بنایا ہے
مجھے اپنی مہارت پر بڑا ہی فخر ہوتا تھا
کوئی بیمار آکر جب میری چوکھٹ پہ روتا تھا
اسے میں حوصلہ دیتا، دوا و مشورہ دیتا
مجھے معلوم ہے لیکن کہ تو ہی ہے شفا دیتا
دواءوں میں شفا دینے کی طاقت ڈال دی تونے
میرے ہر مشورے میں اپنی حکمت ڈال دی تونے
مگر اس بار میں اک مرض کی جزیات میں گم ہوں
زمیں پر سانس لیتی، رینگتی اک ذات میں گم ہوں
وہ اک انسان جو ہر پل لہو کا گھونٹ پیتا ہے
اسے معلوم ہے وہ مررہا ہے پھربھی جیتا ہے
میں عیسی تو نہیں لیکن مجھے اتنی خوشی دیدے
دیا بجھنے کو ہے جو تو اسے اک لوء نئی دیدے
مریض لا دوا کو ذیست سے وابستگی دیدے
سوال اک زندگی کا ہے فقط اک زندگی دیدے

تین گروہ

سورہ الفاتحہ میں تین گروہوں کا بیان ہے۔ (۱) وہ جو صراط مستقیم پر چل کر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بہرہ مند ہوئے (۲) وہ جو صراط مستقیم سے دور رہ کر غضب الٰہی کا شکار ہوئے۔ (۳) وہ جنہوں نے صراط مستقیم پا کر چھوڑ دیا۔ سورہ البقرہ کے آغاز میں بھی تین گروہوں۔ متقین، کافرین اور منافقین کا بیان ہے۔ متقین وہ ہیں جو ایمان و عمل کی دولت سے بہرہ یاب ہیں یہ لوگ مقصد حیات میں کامیاب ہیں۔ کافرین وہ ہیں جن کے قلوب اور سماعت پر مہر لگ چکی ہے اور انکی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے‘ یہ لوگ صراط مستقیم پہچاننے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ ان کیلئے عذاب عظیم ہے۔ تیسرا گروہ منافقین کا ہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے، مگر وہ دل سے ایمان نہیں لائے۔
فرمایا انکے دلوں میں (منافقت) کا مرض ہے اور یہ مرض بڑھتا ہی جاتا ہے۔ کافروں اور منافقوں کا بیان ختم کرنے سے پہلے دو مثالیں دی گئی ہیں۔ آیات ۷۱،۸۱ میں کافروں کے بارے میں مثال ہے۔ ایک شخص نے آگ روشن کی جس سے سارا ماحول چمک اٹھا مگر اللہ تعالیٰ نے کفار کا نور (بصیرت و بصارت) سلب کر لیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا۔ انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا گویا وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں۔ ہدایت کی راہ کی طرف واپس نہیں مڑتے۔ اس سے قبل آیہ ۷ میں کافروں کے بارہ میں فرما چکے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے انکے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور انکی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ قلوب سوچنے سمجھنے سے عاری ہیں۔ کان سنتے نہیں آنکھیں دیکھتی نہیں۔ آیہ ۷ اور آیہ ۸۱ کے مضامین کی مماثلت واضح ہے۔ آیات ۹۱، ۰۲ میں منافقین کے بارے میں مثال ہے۔ آسمان سے موسلا دھار بارش ہو رہی ہے اس میں تاریکیاں بھی ہیں اور (ساتھ) بادلوں کی گرج اور بجلی کی چمک بھی۔ منافقین موت کے ڈر کے مارے پر ہول آوازوں سے بچنے کیلئے کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں اور (نہیں سمجھتے کہ) اللہ تعالیٰ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔ قریب ہے کہ برق ان کی بینائی اچک لے۔ جب بجلی چمکتی ہے تو اس کی روشنی میں (تھوڑا سا) چلتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے، تو کھڑے ہو جاتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی شنوائی اور بینائی (بالکل ) سلب کر لے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ قرآن میں وحی کو کئی جگہ بارش سے تشبیہ دی ہے۔ اس سے قلوب کی کھیتیاں ہری ہوتی ہیں۔ ان میں اعلیٰ افکار اور بلند جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ روحانیت کے پھول کھلتے ہیں۔ اخلاق کے پھل پکتے ہیں۔ مگر بارش کے ساتھ بجلی کی کڑک اور بادلوں کی گرج بھی ہے۔ یعنی اس راہ میں سخت مشکلات بھی ہیں۔ منافقین کو ہر وقت موت کا خوف دامن گیر رہتا ہے۔

فیصلے کی گھڑی

جونہی یہ خبرفرانس کہ صدارتی محل میں پہنچی کہ افغانستان کے صوبہ کاپیسہ میں فرانسیسی فوج کے ٹریننگ سنٹرمیں ایک زیرتربیت افغان فوجی نے اندھادھندفائرنگ کرکے چارفرانسیسی فوجیوں کوہلاک اورسولہ کوشدیدزخمی کر دیاہے تووہاں سناٹاطاری ہوگیا،فوری طورپرفرانسیسی حکومت کی کابینہ کاہنگامی اجلاس طلب کرلیاگیااورفرانس کے صدرنکولیس سرکوزی نے افغانستان میں اپنے جوائنٹ آپریشن اورٹریننگ پروگرام منسوخ کرنے کااعلان کرتے ہوئے اپنی افواج کوفوری طورپرواپس بلانے پرغورشروع کردیا۔فرانس نے عندیہ دیاہے کہ ہم اگرچہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہیں لیکن ہمیں اپنے اہلکاروںکی اس طرح کی ہلاکت یااس اندازسے اپنی فوجیوں کازخمی ہوناقبول نہیں۔حملہ آورافغان تربیتی فوجی افسر نے بعدازاں اپنی گرفتاری پیش کرتے ہوئے ابتدائی تفتیش میںیہ مؤقف اختیارکیا کہ امریکی افواج کی جانب سے طالبان مزاحمت کاروں کی لاشوں پرپیشاب کرنے کی ویڈیونے اسے اس عمل پر مجبور کردیاتھاکیونکہ افغان روایات کے مطابق جنگ میں مرنے والوں کی ایسی بے حرمتی ایک قبیح فعل تصورکیاجاتاہے جس کی وجہ سے وہ اپنے جذبات پرقابونہیں رکھ سکا۔
فرانس کے صدرنکولیس سرکوزی نے اپنے اس ہنگامی اجلاس کے بعدفوری طورپراپنے وزیردفاع کوافغانستان بھیجاجہاں میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے وزیردفاع نے کہاکہ افغان تربیتی اہلکارکے ہاتھوںاپنے فوجیوں کی ہلاکت ان کی حکومت کیلئے ناقابل قبول ہے اوروہ بڑی سنجیدگی سے اپنے فوجیوں کے جلدازجلدانخلاء کے بارے میں کوئی حتمی اعلان کرنے والاہے۔یادرہے فرانس گزشتہ سال ۲۵دسمبرتک اپنے چارسوفوجی پہلے ہی نکال چکاہے۔فوجی مبصرین کے مطابق افغانستان میں فرانسیسی فوج کے انخلاء کے بعدامریکاکیلئے طالبان مزاحمت کاروں کے ساتھ لڑناکافی مشکل ہوجائے گاجبکہ وہ پہلے ہی افغانستان میں کئی مصائب سے دوچارہے۔فرانسیسی فوجی اس وقت کابل کے ایک انتہائی اہم داخلی ضلع سروبی میں تعینات ہیں اوران کی تعیناتی کے بعدہی کابل میں بجلی کی سپلائی بحال ہوئی ہے۔
فرانسیسی فوجیوں کے مجوزہ انخلاء کے بعدکابل کے اس اہم ضلع سروبی کی حفاظت کی ذمہ داری بھی لامحالہ امریکی افواج کوسنبھالناپڑے گی اوراس طرح کابل پرمزاحمت کاروں کا دباؤشدیدبڑھ جائے گاجبکہ امریکی افواج کو پہلے ہی طالبان کے حملوں کے خوف نے خوفزدہ کررکھاہے۔اطلاعات یہ ہیں کہ اس علاقے میں فرانسیسی فوج مزاحمت کاروں کوٹیکس دیکرصرف ڈیم اوردیگرتنصیبات کی حفاطت کابہ امرمجبوری فریضہ سرانجام دے رہے ہیںاوروہ کسی بھی طالبان مخالف آپریشن میں حصہ نہیں لے رہے۔کچھ عرصہ پہلے فرانسیسی فوج نے طالبان کے خلاف ایک آپریشن میں حصہ لیاتھاجس کی پاداش میں حزب اسلامی نے ان کے دس فوجیوں کوہلاک کردیاتھا۔اس آپریشن کے بعدآج تک نہ صرف فرانسیسی فوج نے کسی بھی طالبان مخالف آپریشن میں حصہ نہیں لیا بلکہ خودکومخصوص علاقوں میں اپنی بیرکس میں محفوظ رہنے کاباقاعدگی سے ٹیکس بھی اداکرتے ہیں۔
فرانسیسی فوج کے انخلاء کی صورت میں امریکی فوج کیلئے ضلع سروبی بالکل غیرمحفوظ ہوجائے گااورطالبان اورحزب اسلامی مل کرافغانستان کے دارلحکومت کابل کامحاصرہ کرکے امریکی فوج کوشدید ترین نقصان پہنچاسکتی ہیں ۔اسی خوف کی وجہ سے امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کوفوری طورپریہ بیان دیناپڑاہے کہ فرانس امریکاکے ساتھ ہے اوراپنی فوج کو یہاں سے نہیں نکالے گالیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یورپی ممالک اپنی خراب معیشت کی وجہ سے افغانستان کے اندراپنے فوجیوں کی صحیح طورپرنگہداشت کرنے میں دن بدن کمزور اورناکام ہوتے چلے جارہے ہیںجس کی وجہ سے نہ صرف فوج کوشدیدمشکلات کاسامناہے بلکہ نیٹوسپلائی بندہونے کے بعدیورپی ممالک کے پاس ایئرلفٹ کاکوئی سسٹم بھی موجودنہیںہے جبکہ امریکاکووسطی ایشیاممالک سے ایئر لفٹ سسٹم پرپہلے سے دس گنازائداخراجات برداشت کرنے پڑرہے ہیں۔
ایک طرف امریکانیٹوسپلائی کی بحالی کیلئے پاکستان پرکئی اطراف سے دباؤ میں اضافہ کررہاہے اوردوسری جانب طالبان مزاحمت کاروں نے موسم بہارسے قبل ہی اپنے حملوں میں نہ صرف اضافہ بلکہ تیزی پیداکردی ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نیٹوسپلائی بندہونے کے بعدامریکاکے پاس آپریشن جاری رکھنے کے لئے ایندھن بھی تیزی سے ختم ہورہاہے ۔ افغانستان کے شمالی سالنگ شدیدبرفباری کے بعدمکمل طورپربندہوگیاہے اورمقامی انتظامیہ کے مطابق کم ازکم مارچ کے مہینے تک سالنگ کے کھلنے کے کوئی امکان نہیںجس سے بڑے پیمانے پرامریکی افواج کی کاکردگی متاثرہونے کاخطرہ مزیدبڑھ گیاہے۔
امریکااوریورپی ممالک کی جانب سے ایران پرمزیدپابندیاں لگانے کے بعدافغانستان کے حالات مزیدخراب ہوسکتے ہیںکیونکہ افغانستان میں امریکااوراس کے اتحادیوں کے خلاف ایران افغان مزاحمت کاروںکاایک اہم اتحادی کے طورپرابھررہاہے ۔یہی وجہ ہے کہ اگرایران افغان مزاحمت کاروں کی مددشروع کردے توشمالی افغانستان میں بھی امریکااوراس کے اتحادیوںکے خلاف مزاحمت شدت اختیارکرسکتی ہے جس کوکنٹرول کرناامریکااوراس کے اتحادیوں کے بس کی بات نہ ہوگی۔اسی تناظرمیں فرانس کے اپنے فوجیوں کے انخلاء کے اعلان نے امریکاکوحواس باختہ کردیاہے اوراس اعلان سے نہ صرف امریکابلکہ نیٹوکے دوسرے ممبران کوبھی خاصادھچکالگاہے۔امریکانے فوری طورپر فرانس کواپنے اس اعلان کوواپس لینے کیلئے اپنی کوششوں کوتیزترکردیاہے کہ کسی نہ کسی طورپرفرانس کے فوجیوں کی ہلاکت کے مسئلے پرفرانس کے عوام میں جو اشتعال پیداہواہے اس کو کسی نہ کسی طریقے سے ٹھنڈاکیاجاسکے۔
ادھرفرانس میں انتخابات قریب ہونے کی وجہ سے فرانسیسی صدرکی کوشش ہے کہ وہ فرانس کے اندراپنی مقبولیت میںاضافہ کرسکیںتاکہ آئندہ الیکشن میں ان کی پارٹی کوکامیابی مل سکے تاہم امریکاکوجن مشکلات کاسامناہے، لگتایہ ہے کہ افغانستان میں ان کے مصائب میں بے پناہ اضافہ ہونے والاہے۔اگرپاکستان مارچ تک نیٹوسپلائی بندرکھتاہے توموسم گرما میںامریکااوراس کے اتحادیوںکیلئے افغانستان کے اندرکاروائیوں کیلئے ایندھن بالکل ختم ہوجائے گا۔امریکانے توکئی اہم آپریشن اسی مجبوری کی وجہ سے پہلے ہی ختم کردیئے ہیں اوراب اس کی کوشش ہے کہ فرانس اوراس کے یورپی اتحادیوںکے افغانستان سے انخلاء پرعمل درآمدسے قبل ہی طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کردے تاہم جوطریقہ امریکانے اختیارکیاہے اس طریقہ کارسے مذاکرات کاعمل مزیدپیچیدہ ہوگیاہے۔
کیونکہ امریکاپاکستان،ایران اورافغان صدرحامدکرزئی کوبائی پاس کرکے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرناچاہتاہے تاہم طالبان لیڈروں کی اکثریت اس طرح کے مذاکرات کے حق میں نہیں ہیںکہ ان کے ہمسایہ ممالک ان مذاکرات میں شامل نہ ہوں۔شمالی اتحادکے رہنماء احمدضیاء کی جانب سے اس اعلان کے بعدکہ اگرافغانستان میں طالبان کو اقتدار
Clickbank Products دیا گیا توہم اس فیصلے کے خلاف ہتھیاراٹھائیں گے جس سے یہ امکان پیداہوگیاہے کہ اگرتمام فریقوں کواعتمادمیں لیکرمذاکرات نہ کئے گئے توافغانستان میں خطرناک قسم کی خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے۔افغانستان میں خانہ جنگی کی صورت میں تباہ شدہ افغانستان مزیدابتری پیداہوجائے گی جس سے افغانستان کے پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران بھی متاثرہوسکتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ امریکااورافغانستان میں مذاکرات کاابتدائی دورمکمل طورپرناکام ہوگیاہے۔
ادھریہ اطلاع بھی گشت کررہی ہے کہ افغان صدرحامدکرزئی اوران کے ساتھیوں نے امریکاکے گوانتاناموبے میںقیدطالبان رہنماؤںکوقطرمنتقل کرنے پراپنی رضامندی کا اظہار کیاہے تاہم افغان حکومت کوخدشہ ہے کہ امریکااپنے مفادات کی خاطرانہیں بائی پاس کرکے افغانستان میں امن مذاکرات کوتباہ کرسکتاہے اوراس طرح اامریکی طرزعمل سے افغانستان میں امن کی بجائے خانہ جنگی پیداہوگی اوراگرافغانستان اس امریکی عمل سے خانہ جنگی کاشکارہواتویہ نہ صرف افغان قوم کی بدقسمتی ہوگی بلکہ امریکااوراس کے اتحادی بھی معاشی طورپربالکل تباہ ہوجائیں گے جواس خطے سے اب بھی تجارت اورتیل کی ترسیل کی امیدلگائے بیٹھے ہیں۔ادھردوسری طرف طالبان مذاکرات پررضامندی ظاہرکرنے کے باوجود اپنے جائزاورقانونی مؤقف پرڈٹے ہوئے ہیں کہ امریکاافغانستان سے فوری طورپرنکل جائے اورافغانستان کے عوام کواپنے مرضی سے اپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کاحق تسلیم کیا جائے۔اگرافغان عوام اپنے حکمرانوں کاخودانتخاب کریں گے تویہ جہاںافغانستان کے امن کیلئے بہترہوگاوہاں دنیامیں انتہاپسندی کے خاتمے میں مددبھی ملے گی لیکن اگرامریکا باہرسے اپنے فیصلے مسلط کرنے کی کوشش کرے گاتودنیانے یہ دیکھ لیاہے کہ افغان عوام نے نہ توپہلے کسی جارح کی حاکمیت کوقبول کیاہے اورنہ ہی وہ آئندہ باہرسے مسلط کئے گئے فیصلے تسلیم کریں گے۔
جو جرات پروازمیں جاں دے گیا طارق
اس چڑیاکے بچے میں عقابوں سا جگرتھا

سائنس قرآن کے حضور میں

قرآن مجید اور جدید سائنس کی ثابت شدہ حقیقتوں میں بے مثال مطابقت پائی جاتی ہے ۔ جو قرآن کے منجانب اللہ ہونے کی بہترین دلیل ہے۔ اسی مناسبت سے میں نے ان تمام معلومات کو اپنے بلا گ میں جمع کردیا ہے۔ دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ ان معلومات کو پڑھیں اور اپنے ایمان میں اضافہ فرمائیں۔ بلاگ کو وزٹ کرنے والے تمام افراد کو میں دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں
اس ویب سائٹ کی اردو اور عربی لکھائی کو درست دیکھنے کے لیے یہ دونوں فانٹس، جمیل نوری نستعلیق اور المصحف کو ڈاون لوڈ ک رکے اپنے کمپیوٹر میں انسٹال کرلیجیے ۔شکریہ
انگلیوں کے نشانات
قیامت کے منکر اس بات کو ماننے کے لیے بالکل تیا ر نہیں ہیں کہ وہ انسان کہ جس کی ہڈیاں مرنے کے بعد گل سڑ کر ختم ہو جاتی ہیں ،قیامت کے دن پھر جی اٹھے گا ،یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہر انسان وہی شکل وصورت لے کر دوبارہ زندہ ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب درج ذیل آیت میں دیا ہے:
(اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعُ عِظَامَہ ۔ بَلٰی قٰدِرِیْنَ عَلٰی اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَہ)
'' کیا انسا ن یہ سمجھتاہے کہ ہم اس کی ہڈیاں اکٹھی نہ کر سکیں گے؟کیوں نہیں،ہم اس بات پر قادر ہیں کہ (پھر سے )اس کی انگلیوں کے پور پور تک درست بنا دیں''(1)
ماں کے پیٹ میں حمل کے چوتھے مہینے میں جنین کی انگلیوں پر نشانات بنتے ہیں ،جوپھر پیدائش سے لے کر مرنے تک ایک جیسے رہتے ہیں۔انگلیوں کے نشان ،آڑھی ترچھی ،گول اورخمدار لکیروں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جو انسان کی جلد کے اندرونی وبیرونی حصّوں کی آمیزش سے بنتے ہیں۔ کسی بھی انسان کی پہچان اور شناخت کے لیے ہاتھ کی لکیریں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔مگر اس بات کا بنی نوع انسان کو پتہ نہیں تھا۔تاہم دو سو سال پہلے انگلیوں کے نشانات اس قدر اہم نہ تھے کیونکہ انیسویں صدی کے آخر میں یہ بات دریافت ہوئی تھی کہ انسانوں کی انگلیوں کے نشان ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔1880ء میں ایک انگریز سائنس دان Henry Fauldsنے اپنے ایک مقالے میں جو ''نیچر''نامی جریدے میں شائع ہوا ،اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ لوگوں کی انگلیوں کے نشان عمر بھر تبدیل نہیں ہوتے اوران کی بنیاد پر ایسے مشتبہ لوگ جن کی انگلیوں کے نشان کسی شے پر مثلاًشیشے وغیرہ پر رہ جاتے ہیں' مقدمہ چلایا جاسکتاہے۔ ایسا پہلی بار 1884ء میں ہوا کہ انگلیوں کے نشانات کی شناخت کی بناپر ایک قتل کے ملز م کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اس دن سے انگلیوں کے نشانات شناخت کا نہایت عمدہ طریقہ بن گئے ہیں۔تاہم 19ویں صدی سے قبل غالباً لوگوں نے بھول کر بھی نہ سوچاہو گا کہ ان کی انگلیوں کے نشانات کی لہر دار لکیریں بھی کچھ معنی رکھتی ہیں اوران پر غور بھی کیا جاسکتا ہے۔ (2)

ڈاکٹر ذاکر نائیک کے مطابق بھی '' دنیا میں کسی بھی آدمی کی انگلیوں کے نشان کسی بھی دوسرے آدمی کی انگلیوں کے نشانات سے نہیں ملتے چاہے وہ جڑواں ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی طور پر بھی پولیس مجرموں کی شناخت کے لیے فنگر پرنٹس کے طریقے ہی کو استعمال کرتی ہے''۔ ( 3)
ساخت کے لحاظ سے جلد دو تہوں پرمشتمل ہوتی ہے۔ ایک بیرونی پتلی تہہ جس کو برادمہ (Epidermis)کہتے ہیں۔یہ تہہ برحلمی (Epithelial)خلیوں پر مشتمل ہوتی ہے جو باہم بہت زیادہ پیوست ہوتے ہیں۔اس کے نیچے ایک اندرونی موٹی تہہ ہوتی ہے،جو ادمہ (Dermis)کہلاتی ہے۔ ادمہ کی سطح بہت سے مقامات پر انگلیوں کی طرح کے ابھاروں کی صورت میں اٹھی ہوتی ہے۔ یہ ابھار برادمہ میں گھسے ہوئے ہوتے ہیں۔انہیں ثالیل (Papillae)یاادمی ثالیل (Dermal Papillae)کہتے ہیں۔یہ ابھار ہتھیلی اورتلووں (بمعہ ہاتھ اورپاؤں کی انگلیوں کے )پر سب سے زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔خاص طورپر ہاتھ اورپاؤں کی انگلیوں کی سیدھی جانب ان ابھاروں کی قطاریں اس حد تک واضح ہوتی ہیں کہ ان کے نشانات کاغذ یا کسی بھی چیز پر حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ہر فرد کی انگلیوں اورانگوٹھے میں ان ابھاروں کی ترتیب اورانداز مختلف ہوتے ہیں۔یعنی ایک آدمی کی انگلیوں کے یہ نشانات کسی بھی دوسرے آدمی سے نہیں ملتے۔ حتیٰ کہ جڑواں بچوں کے بھی نہیں۔ نیزایک ہی آدمی میں یہ ابھارایک جیسے رہتے ہیں اورزندگی کے کسی بھی مرحلے میں تبدیل نہیں ہوتے۔ البتہ عمر کے ساتھ ساتھ یہ سائز میں بڑے ہوتے جاتے ہیں۔(4)
بچے میں یہ ابھار حمل کے تیسرے اورچوتھے مہینے کے درمیان میں اس وقت پیداہوتے ہیں جب برادمہ نیچے موجود ادمی ابھاروں کے خدوخال کے موافق ہوجاتی ہے۔ ان ابھاروں کا کبھی بھی نہ تبدیل ہونے کی خاصیت ہر انسان کی انفرادی پہچان کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔چونکہ پسینوں کے غدود کی نالیا ں برادمی ابھاروں کی چوٹیوں پر کھلتی ہیں ،اسی لیے جب کسی ہموار چیز کو چھواجاتا ہے تو اسی پر انگلیوں (یا پاؤں )کے نشانات ثبت ہو جاتے ہیں۔
جدید سائنس نے حال ہی میں انکشاف کیاہے کہ جرائم کی تحقیقات میں پولیس کو بہت جلد انگلیوں کے نشانات سے لوگوں کے طرززندگی کے بارے میں بھی اہم معلومات حاصل ہو سکیں گی جن کی مدد سے انہیں مجرم تک پہنچنے میں بہت مدد ملے گی۔ برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق سے ایسے امکانات پیداہوئے ہیں جن سے سگریٹ نوشی 'منشیات کے استعمال یا انگلیوں کے نشانات میں عمر کے ساتھ رونما ہونے والی تبدیلیوں کا پتا چلایا جا سکتاہے۔
ڈاکٹرجکیلز کا کہنا ہے کہ جب انسان کسی چیز کو چھوتے ہیں تو کچھ نامیاتی مرکبات انگلیوں کے پوروں سے اس چیز پر لگ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انگلیوں کے پوروں میں بہت سے نامیاتی مرکبات پائے جاتے ہیں اوریہ بہت سے امکانات کو جنم دیتے ہیں۔اس طرح کا ایک نامیاتی مرکب جس سے کولیسٹرول بھی بنتاہے انسانی پوروں میں بڑی تعداد میں پایا جاتاہے۔ یہ مرکب جسے سکیولین کہا جاتاہے انسانی ہاتھ سے مس ہونے والی چیز پر رہ جاتاہے۔ اس کا روایتی طریقے یا انسانی آنکھ سے پتا لگانا ناممکن ہے۔
ڈاکٹر جکیلز کے مطابق بالغوں 'بچوں اورعمر رسیدہ لوگوں کی انگلیوں سے مختلف نوعیت کے نامیاتی مرکبات چیزوں پر لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ منشیات کا استعمال کرنے والوں کی ا نگلیوں کے پوروں سے جو نامیاتی مرکبات چیزوں پر لگتے ہیں اس میں ان نشہ آور اشیا کے اثرات بھی پائے جاتے ہیں جو وہ استعمال کرتے ہیں۔(5)


اللہ تعالیٰ مندرجہ بالاآیت میں ان لوگوں کو جواب دیتے ہوئے فرماتاہے کہ وہ نہ صرف ہماری ہڈیوں کو دوبارہ بالکل اسی طرح جوڑ دے گا جیسا کہ وہ پہلے تھیں بلکہ ان کی انگلیوں کے پوروں کے نشانات بھی بالکل ویسے ہی ہوں گے جیسا کہ پہلے تھے۔ قرآن یہاں پر انسانوں کی شناخت کے حوالے سے انگلیوں کے نشانات کو کیوں اہمیت دے رہا ہے جبکہ 1880 ء سے پہلے انگلیوں کے نشانات کے ذریعے کسی انسان کی انفرادیت یا شناخت کا تصور بھی نہیں پا یا جاتاتھا۔ چنانچہ اربو ں کھربوں انسانوں کی ہلاکت کے بعد قیامت کے دن دوبارہ ان کو زندہ کرنا جب کہ ان کی ہڈیاں ریزہ ریزہ اورجسم گل سڑ چکے ہوں گے ،دوبارہ اسی شکل وصورت میں پیداکرنا بلکہ انگلیوں کے پور پور تک کا اسی پہلی بناوٹ میں ہونا ،اللہ تعالیٰ کی عظمت و بڑائی کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔چنانچہ یہ بات کسی دلیل کی محتاج نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی انگلیوں کی لکیروں میں جو راز پنہاں رکھا ہے وہ اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اوراللہ تعالیٰ نے جو بے مثال انجنیئرنگ اور ڈیزائنگ صرف چند مربع سینٹی میٹر کے رقبے میں کی ہے کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ انسان اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اتنی چھوٹی سی جگہ کے اندر اربوں ، کھربوں نمونے تیار کیے جا سکتے ہیں۔ یہا ں سوال پیدا ہوتا ہے کہ 1400 سال پہلے وہ کون سی ہستی تھی کہ جس کو پتہ تھا کہ تما م انسانوں کے ہاتھوں کے نشانات مختلف ہیں اور ان ہی کی وجہ سے کسی انسان کی شناخت ممکن ہے تو جواب ملے گاکہ سوائے اللہ رب العزت کی ذات کے 'کوئی اس بات کو نہیں جانتا تھا کیوں کہ وہی ہمارا خالق ہے اور وہی جانتاہے کہ انسان کی پیدائش کس طرح ہوئی۔

انسانی فکروعمل میں قلب کا بنیادی کردار اور اسلام
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEgP1ErQ7foyUdpXnv-BZCAhOs8NYIfAlBTF7xPoth-NjLfUE53J4_YQraWqsn7gK7RcAvWFm64QInmyfmAwt8Ws9aG9dBysv4KpFmb3vQLYvTN9CgZ9Cqn8mGpPVSvGXfNWF2zpsAMYSA-9/s1600/depression-cause-heart-attack-1.jpg
قلبانسانی جسم کا اہم اور کلید ی عضو ہے جو جسم انسانی کی طرح فکر وعمل میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔اس لیے قرآن وحدیث کی نظر میں قلب کی درستی پر انسانی عمل کی درستی کا انحصار ہے ۔قراآن وحدیث میں انسانی دل کو ذہانت کا منبع اور جذبات اور احساسات رکھنے والا عضو قرار دیا گیا ہے۔اس دور میں سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی تھی،اس لیے انیسویں صدی تک یہی سمجھا جاتا رہا کہ انسانی دل کی حیثیت صرف پمپ جیسی ہے جو پورے جسم میں خون پمپ کرتا ہے ۔تاہم بیسویں صدی کے وسط میں سائنس نے پہلی مرتبہ یہ حیرت انگیز دریافت کی کہ انسانی دل میں بھی انسانی دماغ کی طرح کے ذہانت کے خلیے پائے جاتے ہیں ۔اس انقلابی دریافت کے بعد پھر انسانی دل پر بحیثیت منبع ذہانت (Source of Intelligence) کےمغرب میں بھی کئی اہم سائنسی تحقیقات ہوئیں ۔ان تحقیقات کو اس بحث میں مختصراً پیش کیا جائے گا تاکہ ہمیں اس بات کا اندازہ ہوسکے کہ سائنس آج ان حقائق کو دریافت کر رہی ہے جو  قرآن وحدیث نے1400 سال پہلے بیان کر دیے تھے۔
انسانی دل کے اندر چھوٹا سادماغ۔۔۔۔۔جدید سائنسی تحقیق
انیسویں صدی حتیٰ کہ بیسویں صدی کے نصف تک سائنس دانوں کے حلقوں میں انسانی دل کو صرف خون پمپ کرنے والا ایک عضو ہی سمجھا جاتا تھا۔لیکن پھر کچھ مزید سائنسی تحقیقات ہوئیں تو سائنس ،دل کے متعلق اس بات کو سمجھنا  شروع ہوئی جو قرآن نے اور آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے کہی تھی۔جیساکہ تفسیر قرآن کے ماہر صحابیٴرسول حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس قرآن میں ایسی آیات ہیں جنہیں صرف وقت گزرنے کے ساتھ ہی سمجھا جا سکے گا۔یعنی جیسے جیسے سائنسی علوم ترقی کریں گے۔
انسانی دل کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہو اکہ جدید سائنس نےا نسانی دل کے متعلق اب یہ سمجھنا شروع کیا ہے کہ اس میں بھی ذہانت کے خانے ہیں ۔انسانی دل پر جدید تحقیقات کی بنیاد پر کینیڈا کے سائنس دان ڈاکٹر جے اینڈ ریو آرمر   (Dr. J. Andrew)( Armour M.D,ph.D)نے ایک نئی میڈیکل فیلڈ کی بنیاد رکھی ہے جس کانام ہے نیورو کارڈیالوجی (Neuroradiology) یعنی انسانی دل کا اعصابی نظام  (Nervous System) ۔ڈاکٹر آرمر نے دل کے اعصابی نظام کے لیے دل کے اندر چھوٹا سادماغ )  (A little Brain in the Heartکی اصطلاح وضع کی ہے۔
یہ اس لیے کہ انہوں نے دریافت کیا ہے کہ انسانی دل کے اندر تقریباًچالیس ہزار اعصابی خلیے (Nerve Cells) پائے جاتے ہیں ۔یہ وہی خلیے ہیں جن سے دماغ بنتا ہے ۔یہ اتنی بڑی تعداد ہےکہ دماغ کےکئی چھوٹے حصے اتنے ہی اعصابی خلیوں سے مل کر بنتے ہیں ۔مزید برآں دل کے یہ خلیے دماغ کی مدد کے بغیر کام کرسکتے ہیں ۔دل کےا ندر پایا جانے والا یہ دماغ پورے جسم سے معلومات لیتا ہے اور پھر موزوں فیصلے کرنے کے بعد جسم کے اعضاء حتیٰ کہ دماغ کو بھی جوابی ہدایات دیتا ہے۔
علاوہ ازیں دل کے اندر موجود دماغ میں ایک طرح کی یاداشت  (Short Term Memory) کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے ۔دل کو دھڑکنے کےلیے دماغ کی ضرورت نہیں ہوتی ،یہی وجہ ہےکہ دل کی پیوندکاری کے آپریشن میں دل اور دماغ کے درمیان تمام رابطے کاٹ دیے جاتے ہیں اور جب دل نئے مریض کے سینے میں لگایا جاتا ہے تو وہ پھر سے دھڑکنا شروع کردیتا ہے ۔ان تمام تحقیقات کو پیش کرنے کے بعد ،جو ڈاکٹر اینڈریو آرمر اور ان کے معاون سائنس دانوں نے دل کے اعصابی نظام پر کی ہیں، ڈاکٹر آرمر اپنی کتاب  میں لکھتے ہیں  :




 انسانی دل کے پاس اپنا چھوٹا سا دماغ ہوتا ہے جو اس قابل ہوتا ہے کہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت مشکل قسم کے تجزیے کر سکتا ہے۔دل کے اعصابی نظام کی ساخت اور کارکردگی کے متعلق جاننے سے ہمارے علم میں ایک نئی جہت کا اضافہ ہوا ہے جس کے مطابق انسانی دل نہ صرف دماغ کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے بلکہ دماغ کی مدد کے بغیر آزادنہ طور پر فرائض ادا کرتا ہے[1]
تحقیق سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ دل ،الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ کی مد د سے دماغ اور بقیہ جسم کو اطلاعات پہنچاتا ہے۔ دل انسانی جسم  میں سب زیادہ طاقتور الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ پیداکرتا ہے جو انتہائی تناسب سے کافی دور تک پھیلتی ہیں۔ دل کی پیداکردہ الیکٹرومیگنٹک فیلڈ دماغ کی پیداکردہ میگنیٹک فیلڈ سے 500 گنا طاقتور ہوتی ہیں اور ان کو جسم سے کئی فٹ کے فاصے سے بھی معلوم کیا جاسکتا ہے۔[2]
دل اور دماغ کے مابین دوطرفہ گفتگو کا سائنسی ثبوت
1970ء تک سائنس دان یہ سمجھتے تھے کہ صرف دماغ انسانی دل کو یک طرفہ احکام جاری کرتا ہے اور دل ہمیشہ ان کے مطابق کام کرتا ہے ،لیکن 1970ء کی دہائی میں امریکی ریاست اوہایو (Ohio) کے دو سائنس دانو ں جان لیسی اور اس کی بیوی بیٹرس لیسی نے یہ حیرت انگیز دریافت کی کہ انسان کے دماغ اور دل کے درمیان دوطرفہ رابطہ ہوتا ہے ۔ یہ تحقیق امریکہ کے نہایت موٴقر سائنسی جریدے  امریکن فزیالوجسٹ  کے شمارے میں چھپی تھی ۔تحقیق کا عنوان تھا۔(Two-Way communication between the heart and the brain)
انہوں نے تجربات سے یہ دریافت کیاکہ جب دماغ جسم کے مختلف اعضاء کو کوئی پیغام بھجواتا ہے تو دل آنکھیں بند کرکے اسے قبول نہیں کرلیتا۔جب دماغ جسم کو متحرک کرنے کا پیغام بھیجتا ہے تو کبھی دل اپنی دھڑکن تیز کردیتا ہے اور کبھی دماغ کے حکم کے خلاف پہلے سے بھی آہستہ ہو جاتا ہے ۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دل اپن ہی کوئی منطق استعمال کرتا ہے ۔مزید براں دل بھی دماغ کو کچھ پیغامات بھیجتا ہے جنہیں دماغ نہ صرف سمجھتا ہے بلکہ ان پر عمل بھی کرتا ہے[3]
جان لیسی اور بیٹرس لیسی کی تحقیقات پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی سائنس دان ڈاکٹر رولن میکریٹی اپنی کتاب میں لکھتا ہے: 
جیسے جیسے ان کی تحقیق مزید آگے بڑھی انہوں نے دریافت کیا کہ دل کی اپنی مخصوص منطق ہے جو بسا اوقات دماغ سے آنے والے پیغامات سے مختلف سمت میں جاتی ہے ۔حاصل کلام یہ کہ انسانی دل اس طرح کام کرتا ہے جیسے اس کا اپنا ایک دماغ ہو[4]
امریکی سائنس دان ڈاکٹر پال پیرٴسل (Paul Pearsall, Ph.D.) نے انسانی دل کی ذہانت پر اپنی کتاب میں سیر حاصل گفتگو کی ہے ۔ڈاکٹر پیر ٴسل بیان کرتا ہے کہ علوم انسانی کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ سائنس نے کئی سچائیوں کو بہت مشکل سے تسلیم کیا ۔ اٹھارویں صدی کے وسط تک ڈاکٹر حضرات جراثیم کے وجود کو تسلیم نہیں کیا کرتے تھےاور اس دوران کئی مریضوں کی اموات جراثیموں  کی وجہ سے ہوئیں ،کیونکہ اس دور کے طبیب اپنا نشتر (Scalpel) اپنےجوتے کے تلے کے چمڑے سے تیز کرتے تھے جس پر نشتر پر جراثیم لگ جاتے اور جس مریض کا اس سے آپریشن کیا جاتا اس کی موت کا باعث بنتے۔
وہ اطباء (Doctors) اس بات کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے کہ لوگ جراثیموں جیسی کسی مخلوق کے وجود کے قائل ہیں۔بالآخر جب لیون ہک (Leewenhook) نے خوردبین  (Microscope) ایجاد کی اور سائنس دانوں نے خود اپنی آنکھوں سے جراثیم دیکھے تو پھر ہر ہسپتال میں آپریشن سے پہلے ڈاکٹروں نے اپنے ہاتھ دھونا شروع کردیے اور انہوں نے اپنے میڈیکل اوزاروں کو بھی جراثیموں سے پاک (Sterilize) کرنا شروع کردیا ۔ڈاکٹر پیرٴسل کے مطابق یہی حال سائنسدانوں اور ڈاکٹروں کا بالآخر دل کے معاملے میں ہوگا ،جب انہیں پتہ چل جائے گا کہ انسانی دل بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ڈاکٹر پیرٴسل مزید لکھتا ہے: 
موجودہ  دور کی ایجادات کا تعلق بھی دماغ ہی سے ہے ،دل سے نہیں ،درحقیقت دماغ سے ہمیں صرف سائنسی ترقی ملی ہے جبکہ اخلاقی ترقی صرف دل سے ہی مل سکتی ہے[5]
ڈاکٹر پیرٴسل کے مطابق پورے جسم میں دل کی ایک منفرد خصوصیت اس کا دھڑکنا (Rhythmicity) ہے ،جس کی وساطت سے دل پورے جسم پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ہر دھڑکن کے ساتھ ہم دل کی موجودگی کو اپنے جسم میں محسوس کر سکتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کسی کلچر او ر تہذیب کے کسی شخص کو لےلیں اور اس سے آپ کہیں کہ وہ اپنی ذات کی طرف اشارہ کرے تو کوئی شخص اپنے سر کی طرف اشارہ نہیں کرتا بلکہ اپنے دل کی طرف اشارہ کرکے کہتا ہے  میں  یہ کرتا ہوں یامیں یہ کہتا ہوں۔
دراصل انسانی روح کا اصل مکان دل ہوتا ہے اور انسان کی میں دراصل اس کی روح ہی ہوتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم بھی جب دل کا ذکر کرتے ہیں تو روح کا بھی ذکر کرتے ہیں ،حتیٰ کہ مغربی عیسائی مصنفین اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارے دلوں میں اس جنت کی یاد ابھی پائی جاتی ہے جس سے حضرت آدم علیہ السلام کو نکا لا گیا تھا ،مثلاً مغربی مصنف رچر ڈ بائن برگ اپنی کتاب   میں لکھتا ہے :
ہماری مصروفیت بھری زندگی کےہنگاموں کی تہہ میں ہمارے دلوں اور ہمارے اجسام کے خلیوں (Cells) کے
ا ندر ایک کھوئی ہوئی جنت (A Paradise lost) کی خفیہ یادیں پوشیدہ ہوتی ہیں جنہیں ہم جنت میں اپنی مشترکہ بچپن جیسی زندگی  (Our shard paradisal infancy) کہہ سکتے ہیں[6]
محقق جوزف چلٹن پیرٴس  اپنی کتاب  میں قلبِ انسانی کے متعلق سائنسی تحقیقات کا خلاصہ پیش کرتےہوئے لکھتا ہے :
1.   ہمارے  ذہن کو ہمارے دل کا آلہ (Instrument) کہا جاسکتا ہے۔
2.   ہمارے دل کو بذاتِ خود انسانی زندگی کا آلہ کہا جاسکتا ہے۔
3.   ہمارا دماغ اور ہمارا جسم کچھ اس طرح کی ساخت کے بنے ہوئے ہیں کہ وہ دل سے آنے والی انفارمیشن کو ہمارے لیے منفرد تجربہ ٴ زندگی میں تبدیل کرسکیں ۔دماغ اور بقیہ جسم دل سے آنے والی اس انفارمیشن کا لمحہ بہ لمحہ تجزیہ کرتے رہتے ہیں اور پھر اس نتیجے کو جذبات کی زبان میں دل تک دوبارہ پہنچاتےہیں ۔
4.   دماغ سے آنے والی رپورٹوں کے جواب میں قلبِ انسانی پورے جسم کو اعصابی اور کیمیاوی (Neural and hormonal) سگنل بھیجتا ہے اور ان میں تبدیلی لاتا ہے ۔اس تبدیلی کی وجہ سے زندگی کے متعلق ہمارا ایک خاص قسم کا تجربہ ہماری شخصیت پر ثبت ہوجاتا ہے ۔
آخر میں محقق پیرٴس جوزف قلبِ انسانی کے متعلق درج ذیل الفاظ میں خلاصہ پیش کرتا ہے:
“Our heart plays a  major,though fragile role in our overall consciousness”
)ہمارا دل ہماری سمجھ بوجھ اور شعور میں نہایت اہم اور نازک کردار ادا کرتا ہے( [7]
قارئین کرام :یوں تو دل کے متعلق قرآن وحدیث میں بے شمار مقامات پر کہا گیا ہے مگر یہاں بطور ثبوت چند آیات و احادیث پیش کی جاتی ہیں تاکہ آپ کو جدید سائنس اورقرآنی آیات کی اطلاعات کے درمیان موازنہ کرنے میں آسانی رہے ۔ارشاد فرمان باری تعالیٰ ہوتا ہے کہ!
فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۴۳
پھر جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو وہ کیوں نہ گڑگڑائے؟ مگر ان کے دل تو اور سخت ہوگئے اور جو کام وہ کر رہے تھے شیطان نے انہیں وہی کام خوبصورت بنا کر دکھا دیئے  )الانعام(
وَ لِتَصْغٰۤى اِلَيْهِ اَفْـِٕدَةُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِيَرْضَوْهُ وَ لِيَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ۰۰۱۱۳
اور (وہ ایسے کام) اس لیے بھی (کرتے تھے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی باتوں پر مائل ہوں اور وہ انھیں پسند کریں اور جو کام وہ کرتے تھے وہی کرنے لگیں ۔ )الانعام(
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَۚۖ۰۰۲
سچّے اہلِ ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سُن کر لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں، (الانفال)
لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَفِيْ شِقَاقٍۭ بَعِيْدٍۙ۰۰۵۳
(وہ اس لیے ایسا ہونے دیتا ہے ) تاکہ شیطان کی ڈالی ہوئی خرابی کو فتنہ بنا دے ان لوگوں کے لیے جن کے دلوں کو (نفاق کا ) روگ لگا ہوا ہے اور جن کے دل کھوٹے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ عناد میں بہت دور نکل گئے ہیں ۔(الحج)
اب فرموداتِ امام الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم سماعت فرمائیے:
·       ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا (جب) جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہوجائیں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ (فرشتوں) سے فرمائے گا کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر (بھی) ایمان ہو، اس کو (دوزخ سے) نکال لو، پس وہ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور وہ (جل کر) سیاہ ہوچکے ہونگے[8]
·       حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہہ دے اور اس کے دل میں ایک جو کے برابر نیکی (ایمان) ہو وہ دوزخ سے نکالا جائے گا اور جو لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہے اور اس کے دل میں گہیوں کے ایک دانے کے برابر خیر (ایمان) ہو وہ (بھی) دوزخ سے نکالا جائے گا اور جو شخص لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہے اور اس کے دل میں ایک ذرہ برابر نیکی (ایمان) ہو وہ بھی دوزخ سے نکالا جائے گا، ابوعبداللہ نے کہا کہ ابان نے بروایت قتادہ، انس، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بجائے خیر کے ایمان کا لفظ روایت کیا ہے۔[9]
·       نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ حلال ظاہر ہے اور حرام (بھی ظاہر ہے) اور دونوں کے درمیان میں شبہ کی چیزیں ہیں کہ جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے، پس جو شخص شبہ کی چیزوں سے بچے اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچالیا اور جو شخص شبہوں (کی چیزوں) میں مبتلا ہوجائے (اس کی مثال ایسی ہے) جیسے کہ جانور شاہی چراگاہ کے قریب چر رہا ہو جس کے متعلق اندیشہ ہوتا ہے کہ ایک دن اس کے اندر بھی داخل ہو جائے (لوگو! آگاہ ہو جاؤ کہ ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہے، آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ کی چراگاہ اس کی زمین میں اس کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں، خبردار ہو جاؤ! کہ بدن میں ایک ٹکڑا گوشت کا ہے، جب وہ سنور جاتا ہے تو تمام بدن سنور جاتا ہے اور جب وہ خراب ہو جاتا ہے تو تمام بدن خراب ہو جاتا ہے، سنو وہ ٹکڑا دل ہے۔[10]

·       اسحاق بن ابراہیم، معاذ بن ہشام، ہشام، قتادہ، انس بن مالک کہتے ہیں کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ (ایک مرتبہ) آپ صلی اللہ کے ہمراہ آپ کی سواری پر آپ کے پیچھے سوار تھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے معاذ (بن جبل) انہوں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسعدیک آپ نے فرمایا کہ اے معاذ انہوں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسعدیک تین مرتبہ (ایسا ہی ہوا) آپ نے فرمایا کہ جو کوئی اپنے سچے دل سے اس بات کی گواہی دے کہ سوا خدا کے کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اللہ اس پر (دوزخ کی) آگ حرام کر دیتا ہے۔ معاذ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں لوگوں کو اس کی خبر کردوں؟ تاکہ وہ خوش ہوجائیں آپ نے فرمایا کہ اس وقت جب کہ تم خبر کر دوگے لوگ (اسی پر) بھروسہ کرلیں گے اور عمل سے باز رہیں گے۔ معاذ نے یہ حدیث اپنی موت کے وقت اس خوف سے بیان کردی کہ کہیں (حدیث کے چھپانے پر ان سے) مواخذہ نہ ہوجائے۔
فرعون کی لاش کی دریافت اوراس کا محفوظ رہنا
  فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اورآپ کی قوم بنی اسرائیل پر بہت مظالم ڈھائے تھے۔  دراصل فرعون اس وقت کے بادشاہوں کا لقب تھا جو بھی بادشاہ بنتا اس کو فرعون کہا جاتاتھا۔ ڈاکٹر مورس بوکائیے کی تحقیق کے مطابق بنی اسرائیل پر ظلم وستم کرنے والے حکمران کا نام رعمسس دوم تھا۔  بائیبل کے بیا ن کے مطابق اس نے بنی اسرائیل سے بیگا رکے طور پر کئی شہر تعمیر کروائے تھے جن میں سے ایک کانام ''رعمسس ''رکھا گیا تھا۔ جدیدِ تحقیقات کے مطابق یہ تیونس اورقطر کے اس علاقے میں واقع تھا جو دریائے نیل کے مشرقی ڈیلٹے میں واقع ہے۔
         رعمسس کی وفات کے بعد اس کا جانشین مرنفتاح مقر ر ہوا۔ اسی کے دورِ حکمرانی میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل سمیت مصر چھوڑنے کا حکم دیا۔ چنانچہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو ہمراہ لیے دریائے نیل پار کررہے تھے یہ بھی اپنے لشکر سمیت ان کا پیچھا کرتے ہوئے دریائے نیل میں اتر پڑا مگر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دریا پار کروانے کے بعد دریا کے پانی کو چلا دیا اورفرعون کو اس کے لشکرسمیت ڈبوکر ہلاک کردیا (1)۔ اس سارے واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے درجِ ذیل آیات میں بیان کیا ہے:
(وَجٰوَزْنَا بِبَنِیْ اِسْرَآئِیْل الْبَحْرَ فَاَتْبَعَھُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُوْدُہ بَغْیًا وَّعَدْوًا ط حَتّٰی اِذَآاَدْرَکَہُ   الْغَرَقُ لا قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْ اٰمَنَتْ بِہ بَنُوآ اِسْرِآئِیْلَ وَاَنا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ اٰلْئٰنَ وَقَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَکُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ ۔ فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ اٰیَةً ط وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ)
''اورہم بنی اسرائیل کو سمندر سے گزار لے گئے۔ پھر فرعون اوراس کے لشکر ظلم اورزیادتی کی غرض سے ان کے پیچھے چلے۔ حتیٰ کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو بول اٹھا ''میں نے مان لیا کہ خداوندِحقیقی اُس کے سوا کوئی نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں بھی سرِاطاعت جھکا دینے والوں میں سے ہوں''(جواب دیا گیا) ''اب ایمان لاتا ہے !حالانکہ اس سے پہلے تک تو نافرمانی کرتا رہا اورفساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔ اب تو ہم صرف تیری لاش ہی کو بچائیں گے تاکہ تو بعد کی نسلوں کے لیے نشان ِ عبرت بنے، اگرچہ بہت سے انسان ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں ''(2)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک پیشین گوئی فرمائی ہے کہ ہم فرعون کی لاش کو محفوظ رکھیں گے تاکہ بعدمیں آنے والے لوگوں کے لیے وہ باعث عبرت ہو۔ اپنے آپ کو خداکہلوانے والے کی لاش کو دیکھ کر آنے والی نسلیں سبق حاصل کریں۔ چنانچہ اللہ کا فرمان سچ ثابت ہوا اور اس کا ممی شدہ جسم 1898ء میں دریائے نیل کے قریب تبسیہ کے مقام پر شاہوں کی وادی سے اوریت نے دریافت کیا تھا۔جہاں سے اس کو قاہرہ منتقل کر دیا گیا۔ ایلیٹ اسمتھ نے 8جولائی 1907ء کو ا س کے جسم سے غلافوں کو اتارا، تو اس کی لاش پر نمک  کی ایک تہہ جمی پائی گئی تھی جو کھاری پانی میں  اس کی غرقابی کی ایک کھلی علامت تھی ۔ اس نے اس عمل کا تفصیلی تذکرہ اورجسم کے جائزے کا حال اپنی کتاب ''شاہی ممیاں ''(1912ء) میں درج کیا ہے۔اس وقت یہ ممی محفوظ رکھنے کے لیے تسلی بخش حالت میں تھی حالانکہ ا س کے کئی حصے شکستہ ہوگئے تھے۔ اس وقت سے ممی قاہرہ کے عجائب گھر میں سیاحو ں کے لیے سجی ہوئی ہے۔ اس کا سر اورگردن کھلے ہوئے ہیں اورباقی جسم کو ایک کپڑے میں چھپاکرر کھا ہواہے۔ محمد احمد عدوی  ''دعوة الرسل الی اللہ'' میں لکھتے ہیں  کہ اس نعش کی ناک کے سامنے کا حصہ ندارد  ہے جیسے کسی حیوان نے کھا لیا ہو ،غالباً سمندری مچھلی نے اس پر منہ مارا تھا، پھر اس کی لاش اُلوہی فیصلے کے مطابق کنارے پر پھینک دی گئی تاکہ دنیا کے لیے عبرت ہو۔
 

    جون1975ء میں ڈاکٹر مورس بوکائیے نے مصری حکمرانوں کی اجازت سے فرعون کے جسم کے ان حصوں کا جائزہ لیا جو اس وقت تک ڈھکے ہوئے تھے اور ان کی تصاویر اتاریں۔ پھر ایک اعلیٰ درجہ کی شعاعی مصوری کے ذریعے ڈاکٹر ایل میلجی اورراعمسس نے ممی کا مطالعہ کیا اورڈاکٹر مصطفی منیالوی نے صدری جدارکے ایک رخنہ سے سینہ کے اندرونی حصوں کاجائزہ لیا۔ علاوہ ازیں جوف شکم پر تحقیقات کی گئیں۔ یہ اندرونی جائزہ کی پہلی مثال تھی جو کسی ممی کے سلسلے میں ہوا۔اس ترکیب سے جسم کے بعض اندرونی حصوں کی اہم تفصیلات معلوم ہوئیں اور ان کی تصاویر بھی اتاری گئیں۔  پروفیسر سیکالدی نے پروفیسر مگنواورڈاکٹر دوریگون کے ہمراہ ان چند چھوٹے چھوٹے اجزا کاخوردبینی مطالعہ کیا جوممی سے خود بخود جد اہوگئے تھے۔ (3)ان تحقیقات سے حاصل ہونے والے نتائج نے ان مفروضوں کو تقویت بخشی جو فرعون کی لاش کے محفوظ رہنے کے متعلق قائم کیے گئے تھے۔ ان تحقیقات کے نتائج کے مطابق فرعون کی لاش زیادہ عرصہ پانی میں نہیں رہی تھی اگر فرعون کی لاش کچھ اورمدت تک پانی میں ڈوبی رہتی تو اس کی حالت خراب ہوسکتی تھی(4) ،حتیٰ کہ اگر پانی کے باہر بھی غیر حنوط شدہ حالت میں ایک لمبے عرصے تک پڑی رہتی تو پھر بھی یہ محفوظ نہ رہتی۔علاوہ ازیں ان معلومات کے حصول کے لیے بھی کوششیں جاری رکھی گئیں کہ اس لا ش کی موت کیا پانی میں ڈوبنے سے ہوئی یا کوئی اور وجوہات بھی تھیں؟چنانچہ مزید تحقیقات کے لیے ممی کو پیرس لے جایا گیا اور وہاں Legal Identification Laboratory کے مینیجر Ceccaldiاور Dr. Durigon نے مشاہد ات کے بعد بتایا کہ : اس لا ش کی فوری موت کا سبب وہ شدید چوٹ تھی جو اس کی کھوپڑی (دماغ)کے سامنے والے حصے کو پہنچی کیونکہ اس کی کھوپڑی کے محراب والے حصے میں کافی خلا موجودہے۔اور یہ تما م تحقیقات آسمانی کتابوں میں بیان کردہ فرعون کے (ڈوب کرمرنے کے) واقعہ کی تصدیق کرتی ہیں کہ جس میں بتایا گیا ہے کہ فرعون کو دریا کی موجوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔(5)
 
 
جیساکہ ان نتائج سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کی لاش کو محفوظ رکھنے کا خا ص اہتمام کیا تھا جس کی وجہ سے یہ ہزاروں سال تک زمانے کے اثرات سے محفوظ رہی اورآخرکار اس کو انیسویں صدی میں دریافت کیاگیا اورانشاء اللہ یہ قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے سامان عبرت رہے گی۔مزیدبرآں اللہ تعالیٰ کایہ فرمان کہ'' ہم فرعون کی لاش کوسامانِ عبرت کے لیے محفوظ کرلیں گے'' صرف قرآن مجید میں موجود ہے، اس سے پہلے کسی دوسری آسمانی کتاب میں اس کا اعلان نہیں کیا گیا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے معلومات لے کر اس کو قرآن میں لکھ دیتے (نعوذباللہ ) ،جیساکہ یہودیوں اور عیسائیوں کا پیغمبر ِاسلام کے بارے میں جھوٹا پروپیگنڈاہے۔چنانچہ یہ قرآن مجید کے سچا اور منجانب اللہ ہونے کا ایک اور لاریب ثبوت ہے جس کو جھٹلانا کسی کے بس میں نہیں ہے۔
چاند کا دوٹکڑے ہونااور جدید سائنس 
اپالو 10اور 11کے ذریعے ناسانے چاند کی جو تصویر لی ہے اس سے صاف طور پر پتہ چلتاہے کہ زمانہ ماضی میں چاند دو حصوںمیں تقسیم ہوا تھا ۔یہ تصویر ناسا کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود ہے اور تاحال تحقیق کامرکز بنی ہوئی ہے ۔ 
ناسا ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچی ہے ۔ا س تصویر میں راکی بیلٹ کے مقام پر چاند دوحصوں میں تقسیم ہوا نظر آتاہے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں مصر کے ماہر ارضیات ڈاکٹر زغلول النجار سے میزبان نے اس آیت کریمہ کے متعلق پوچھا
(اِ قْتَرَ بَتِ السَّا عَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ  0  وَ اِنْ یَّرَ وْ ا اٰ یَةً یُّعْرِ ضُوْ ا وَ یَقُوْ لُوْ ا سِحْرُ مُّسْتَمِرُّ  0  وَ کَذَّ بُوْا وَ اتَّبَعُوْا اَھْوَآ ءَ ھُمْ وَ کُلُّ اَمْرٍ  مُّسْتَقِرُّ 0)
  قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا .یہ اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں  یہ پہلے سے  چلا آتا  ہوا جادو ہے۔انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام ٹھہرے ہوئے وقت پر مقرر ہے۔'' ۔
( القمر، 1-3
ڈاکٹرزغلول النجارکنگ عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ میں ماہر ارضیات کے پروفیسرہیں۔ قرآن مجید میں سائنسی حقائق کمیٹی کے سربراہ ہیں ۔ اورمصرکی سپریم کونسل آف اسلامی امور کی کمیٹی کے بھی سربراہ ہیں۔ انہوں نے میزبان سے کہاکہ اس آیت کریمہ کی وضاحت کے لیے میرے پاس ایک واقعہ موجود ہے ۔انہوں نے اس واقعہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایک دفعہ میں برطانیہ کے مغرب میں واقع کارڈ ف یونیورسٹی میں ایک لیکچر دے رہا تھا ۔جس کوسننے کے لیے مسلم اور غیر مسلم طلبا ء کی کثیر تعداد موجود تھی ۔قرآن میں بیان کردہ سائنسی حقائق پر جامع انداز میں گفتگو ہورہی تھی کہ ایک نو مسلم نوجوان کھڑ ا ہوا اور مجھے اسی آیت کریمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے  کہا کہ سر کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر غور فرمایا ہے ، کیا یہ قرآن میں بیان کردہایک سائنسی حقیقت نہیں ہے ۔ڈاکٹر زغلول النجار نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ نہیں! کیونکہ سائنس کی دریافت کردہ حیران کن اشیاء یا واقعات کی تشریح سائنس کے ذریعے کی جاسکتی ہے مگر معجزہ ایک مافوق الفطرت شے ہے ،جس کو ہم سائنسی اصولوں سے ثابت نہیں کرسکتے ۔چاند کا دوٹکڑے ہوناایک معجزہ تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے نبوت محمد ی  صلی اللہ علیہ وسلم   کی سچائی کے لیے بطوردلیل دکھایا ۔حقیقی معجزات ان لوگوں کے لیے قطعی طورپر سچائی کی دلیل ہوتے ہیں جو ان کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ہم اس کو اس لیے معجزہ تسلیم کرتے ہیں کیونکہ اس کا ذکر قرآن وحدیث میں موجود ہے ۔اگر یہ ذکر قرآن وحدیث میں موجودنہ ہوتاتو ہم اس زمانے کے لو گ اس کو معجزہ تسلیم نہ کرتے ۔علاوہ ازیں ہمار ااس پر بھی ایمان ہے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتاہے ۔

پھر انہوں نے چاند کے دوٹکڑے ہونے کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ احادیث کے مطابق ہجرت سے 5سال قبل قریش کے کچھ لوگ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ اگر آپ واقعی اللہ کے سچے نبی ہیں تو ہمیں کوئی معجزہ دکھائیں ۔حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟انہوں نے ناممکن کام کا خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس چاند کے دو ٹکڑے کر دو۔چناچہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے چاند کی طرف اشارہ کیا اور چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے  حتٰی کہ لوگوں نے حرا پہاڑ کو اس کے درمیان دیکھا . یعنی اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اس طرف اورایک ٹکڑا اس طرف ہو گیا۔ ابن مسعود   فرماتے ہیں سب لوگوں نے اسے بخوبی دیکھا اورآپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا دیکھو ،یادرکھنا اور گواہ رہنا۔کفار مکہ نے یہ دیکھ کر کہا کہ یہ ابن ابی کبشہ یعنی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا جادو ہے ۔کچھ اہل دانش لوگوں کا خیال تھا کہ جادو کا اثر صرف حاضر لوگوں پر ہوتاہے ۔اس کا اثر ساری دنیا پر تو نہیں ہو سکتا ۔چناچہ انہوں نے طے کیاکہ اب جولوگ سفر سے واپس آئیں ان سے پوچھو کہ کیا انہوں نے بھی اس رات چاند کو دو ٹکڑے دیکھاتھا۔چناچہ جب وہ آئے ان سے پوچھا ، انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی کہ ہاں فلاں شب ہم نے چاند کے دوٹکڑے ہوتے دیکھاہے ۔کفار کے مجمع نے یہ طے کیا تھا کہ اگر باہر کے لوگ آ کر یہی کہیں تو حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سچائی میں کوئی شک نہیں ۔اب جو باہر سے آیا ،جب کبھی آیا ،جس طرف سے آیا ہر ایک نے اس کی شہادت دی کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھاہے ۔ا س شہادت کے باوجود کچھ لوگوں نے اس معجزے کا یقین کرلیا مگر کفار کی اکثریت پھر بھی انکار پر اَڑی رہی۔
اسی دوران ایک برطانوی مسلم نوجوان کھڑا ہوا اور اپنا تعارف کراتے ہوئے کہاکہ میر انام داؤد موسیٰ پیٹ کاک ہے۔میں اسلامی پارٹی برطانیہ کا صدر ہوں۔وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولا کہ سر !اگر آ پ اجازت دیں تو اس موضوع کے متعلق میں بھی کچھ عرض کرنا چاہتاہوں ۔مَیں نے کہا کہ ٹھیک ہے تم بات کرسکتے ہو!اس نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے جب میں مختلف مذاہب کی تحقیق کر رہا تھا،ایک مسلمان دوست نے مجھے قرآن شریف کی انگلش تفسیر پیش کی ۔مَیں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اُسے گھر لے آیا ۔گھر آکر جب میں نے قرآن کو کھولا تو سب سے پہلے میری نظر جس صفحے پر پڑی وہ یہی سورة القمر کی ابتدائی آیات تھیں ۔ان آیات کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنے کے بعدمیں نے اپنے آپ سے کہا کہ کیا اس بات میں کوئی منطق ہے ؟کیا یہ ممکن ہے کہ چاند کے دو ٹکڑے ہوں اور پھر آپس میں دوبارہ جڑ جائیں ۔وہ کونسی طاقت تھی کہ جس نے ایسا کیا ؟ان آیات کریمہ نے مجھے اس بات پر آمادہ کیا کہ میں قرآن کامطالعہ برابرجاری رکھوں ۔کچھ عرصے کے بعد مَیں اپنے گھریلو کاموں میں مصروف ہوگیا مگر میرے اندر سچائی کو جاننے کی تڑپ کا اللہ تعالیٰ کو خوب علم تھا ۔
یہی وجہ ہے کہ خدا کا کرنا ایک دن ایساہوا کہ میں ٹی وی کے سامنے بیٹھا ہوا تھا ۔ٹی وی پر ایک باہمی مذاکرے کا پروگرام چل رہاتھا ۔جس میں ایک میزبان کے ساتھ تین امریکی ماہرین فلکیات بیٹھے ہوئے تھے ۔ٹی وی شو کا میزبان سائنسدانوں پر الزامات لگا رہا تھا کہ اس وقت جب کہ زمین پر بھوک ،افلاس ،بیماری اورجہالت نے ڈھیرے ڈھالے ہوئے ہیں ،آپ لوگ بے مقصد خلا میں دورے کر تے پھررہے ہیں۔جتنا روپیہ آپ ان کاموں پر خرچ کر رہے ہیں وہ اگر زمین پر خرچ کیا جائے تو کچھ اچھے منصوبے بنا کر لوگوں کی حالت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے اور اپنے کام کا دفاع کرتے ہوئے اُن تینوں سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ یہ خلائی ٹیکنالوجی زندگی کے مختلف شعبوں ادویات ،صنعت اور زراعت کو وسیع پیمانے پر ترقی دینے میں استعما ل ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم سرمائے کو ضائع نہیں کررہے بلکہ اس سے انتہائی جدید ٹیکنالوجی  کو فروغ دینے میں مدد مل رہی ہے ۔جب انہوں نے بتایا کہ چاند کے سفر پر آنے جانے کے انتظامات پر ایک کھرب ڈالر خرچ آتاہے تو ٹی وی میزبان نے چیختے ہوئے کہا کہ یہ کیسافضول پن ہے ؟ایک امریکی جھنڈے کو چاند پر لگانے کے لیے ایک کھرب ڈالر خرچ کرنا کہا ں کی عقلمندی ہے ؟سائنسدانوں نے جوابا ً کہا کہ نہیں ! ہم چاند پر اس لیے نہیں گئے کہ ہم وہاں جھنڈا گاڑ سکیں بلکہ ہمارا مقصد چاند کی بناوٹ کا جائزہ لیناتھا ۔دراصل ہم نے چا ند پر ایک ایسی دریافت کی ہے کہ جس کا لوگوں کویقین دلانے کے لیے ہمیں اس سے دوگنی رقم بھی خرچ کرنا پڑسکتی ہے۔مگر تاحال لوگ اس بات کو نہ مانتے ہیں اور نہ کبھی مانیں گے۔میزبان نے پوچھا کہ وہ دریافت کیا ہے؟انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک دن چاند کے دوٹکڑے ہوئے تھے اورپھر یہ دوبارہ آپس میں مل گئے۔میزبان نے پوچھاکہ آپ نے یہ چیز کس طرح محسوس کی ؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے تبدیل شدہ چٹانوں کی ایک ایسی پٹی وہا ں دیکھی ہے کہ جس نے چاند کو اس کی سطح سے مرکز تک اور پھر مرکز سے اس کی دوسری سطح تک، کو کاٹا ہوا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اس بات کا تذکرہ ارضیاتی ماہرین سے بھی کیا ہے۔ ان کی رائے کے مطابق ایسا ہرگز اس وقت تک نہیں ہوسکتا کہ کسی دن چاند کے دو ٹکڑے ہوئے ہوں اور پھر دوبارہ آپس میں جڑبھی گئے ہوں۔
برطانوی مسلم نوجوان نے بتایا کہ جب مَیں نے یہ گفتگو سنی تو اپنی کرسی اچھل پڑا اوربے ساختہ میرے منہ سے نکلا کہ اللہ نے امریکیوں کو اس کام کے لیے تیا رکیا کہ وہ کھربوں ڈالر لگاکر مسلمانوں کے معجزے کو ثابت کریں ، وہ معجزہ  کہ جس کا ظہور آج سے 14سو سال قبل مسلمانوں کے پیغمبر کے ہاتھوں ہوا۔مَیں نے سوچا کہ اس مذہب کو ضرور سچا ہوناچاہیے ۔میں نے قرآن کو کھولا اور سورة القمر کو پھر پڑھا۔درحقیقت یہی سورة میرے اسلام میں داخلے کا سبب بنی۔
 
علاوہ ازیں انڈیاکے جنوب مغرب میں واقع مالابار کے لوگوں میں یہ با ت مشہور ہے کہ مالابار کے ایک بادشاہ چکراوتی فارمس نے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کامنظر اپنی آنکھوں سے دیکھاتھا ۔ا س نے سوچاکہ ضرور زمین پر کچھ ایساہو اہے کہ جس کے نتیجے میں یہ واقعہ رونما ہوا ۔چناچہ اس نے اس واقعے کی تحقیق کے لیے اپنے کارندے دوڑائے تو اسے خبر ملی کہ یہ معجزہ مکہ میں کسی نبی کے ہاتھوں رونما ہوا ہے ۔اس نبی کی آمد کی پیشین گوئی عرب میں پہلے سے ہی پائی جاتی تھی ۔چناچہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے ملاقات کا پروگرام بنایا اوراپنے بیٹے کو اپنا قائم مقام بنا کرعرب کی طرف سفر پر روانہ ہوا۔وہاں اس نے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری دی اور مشرف بااسلام ہوا۔نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق جب و ہ واپسی سفر پر گامزن ہوا تو یمن کے ظفر ساحل پراس نے وفات پائی ۔یمن میں اب بھی اس کا مقبر ہ موجودہے۔جس کو ''ہندوستانی راجہ کا مقبرہ''کہا جاتاہے اور لوگ اس کودیکھنے کے لیے وہاں کا سفر بھی کرتے ہیں۔اسی معجزے کے رونما ہونے کی وجہ سے اورراجہ کے مسلمان ہونے کے سبب مالابار کے لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا۔اس طرح انڈیا میں سب سے پہلے اسی علاقے کے لوگ مسلمان ہوئے ۔بعدازاں انہوں نے عربوں کے ساتھ اپنی تجارت کو بڑھایا ۔نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل عرب کے لوگ اسی علاقے کے ساحلوں سے گزر کر تجارت کی غرض سے چین جاتے تھے ۔یہ تمام واقعہ اور مزید تفصیلات لندن میں واقع''انڈین آفس لائبیریری''کے پرانے مخطوطوں میں ملتاہے۔جس کاحوالہ نمبر   
   ہے۔(Arabic ,2807,152-173) 
اس واقعہ کا ذکر محمدحمیداللہ نے اپنی کتاب ''محمدرسول اللہ''میں کیاتھا۔  ناسا کی یہ تصویرچاند پر پائی جانے والی کئی دراڑوں میں سے ایک دراڑ کی ہے ۔ ہم وثوق سے تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ وہی دراڑ ہے کہ جو معجزہ کے رونما ہونے کی بناء پر وجود میں آ ئی تھی مگر ہمارا ایمان ہے کہ معجزہ کے بعد چاند کی کچھ ایسی ہی صورتحال ہوئی ہو گی۔  بحرحال سائنسدانوں کے  بیانات سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ قرآن کریم نے جس واقعہ کا ذکر آج سے 14سو سال پہلے کیا تھا وہ بالکل برحق ہے ۔ یہ ناصر ف قرآن مجید کی سچائی کی ایک عظیم الشان دلیل ہے بلکہ یہ ہمارے پیارے نبی ،امام الانبیا ء کی رسالت کی بھی لاریب گواہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ایمان کو اکمل و کامل کرے اور ہمیں قرآن وحدیث کے مطابق اپنے عملوں کو سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
 

Copyright @ 2014 میری بیاض. Designed by Dr Majid Aslam | Like Us FB