جونہی یہ خبرفرانس کہ صدارتی محل میں پہنچی کہ افغانستان کے صوبہ کاپیسہ
میں فرانسیسی فوج کے ٹریننگ سنٹرمیں ایک زیرتربیت افغان فوجی نے
اندھادھندفائرنگ کرکے چارفرانسیسی فوجیوں کوہلاک اورسولہ کوشدیدزخمی کر
دیاہے تووہاں سناٹاطاری ہوگیا،فوری طورپرفرانسیسی حکومت کی کابینہ کاہنگامی
اجلاس طلب کرلیاگیااورفرانس کے صدرنکولیس سرکوزی نے افغانستان میں اپنے
جوائنٹ آپریشن اورٹریننگ پروگرام منسوخ کرنے کااعلان کرتے ہوئے اپنی افواج
کوفوری طورپرواپس بلانے پرغورشروع کردیا۔فرانس نے عندیہ دیاہے کہ ہم اگرچہ
اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہیں لیکن ہمیں اپنے اہلکاروںکی اس طرح کی ہلاکت یااس
اندازسے اپنی فوجیوں کازخمی ہوناقبول نہیں۔حملہ آورافغان تربیتی فوجی افسر
نے بعدازاں اپنی گرفتاری پیش کرتے ہوئے ابتدائی تفتیش میںیہ مؤقف
اختیارکیا کہ امریکی افواج کی جانب سے طالبان مزاحمت کاروں کی لاشوں
پرپیشاب کرنے کی ویڈیونے اسے اس عمل پر مجبور کردیاتھاکیونکہ افغان روایات
کے مطابق جنگ میں مرنے والوں کی ایسی بے حرمتی ایک قبیح فعل تصورکیاجاتاہے
جس کی وجہ سے وہ اپنے جذبات پرقابونہیں رکھ سکا۔
فرانس کے صدرنکولیس سرکوزی نے اپنے اس ہنگامی اجلاس کے بعدفوری طورپراپنے وزیردفاع کوافغانستان بھیجاجہاں میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے وزیردفاع نے کہاکہ افغان تربیتی اہلکارکے ہاتھوںاپنے فوجیوں کی ہلاکت ان کی حکومت کیلئے ناقابل قبول ہے اوروہ بڑی سنجیدگی سے اپنے فوجیوں کے جلدازجلدانخلاء کے بارے میں کوئی حتمی اعلان کرنے والاہے۔یادرہے فرانس گزشتہ سال ۲۵دسمبرتک اپنے چارسوفوجی پہلے ہی نکال چکاہے۔فوجی مبصرین کے مطابق افغانستان میں فرانسیسی فوج کے انخلاء کے بعدامریکاکیلئے طالبان مزاحمت کاروں کے ساتھ لڑناکافی مشکل ہوجائے گاجبکہ وہ پہلے ہی افغانستان میں کئی مصائب سے دوچارہے۔فرانسیسی فوجی اس وقت کابل کے ایک انتہائی اہم داخلی ضلع سروبی میں تعینات ہیں اوران کی تعیناتی کے بعدہی کابل میں بجلی کی سپلائی بحال ہوئی ہے۔
فرانسیسی فوجیوں کے مجوزہ انخلاء کے بعدکابل کے اس اہم ضلع سروبی کی حفاظت کی ذمہ داری بھی لامحالہ امریکی افواج کوسنبھالناپڑے گی اوراس طرح کابل پرمزاحمت کاروں کا دباؤشدیدبڑھ جائے گاجبکہ امریکی افواج کو پہلے ہی طالبان کے حملوں کے خوف نے خوفزدہ کررکھاہے۔اطلاعات یہ ہیں کہ اس علاقے میں فرانسیسی فوج مزاحمت کاروں کوٹیکس دیکرصرف ڈیم اوردیگرتنصیبات کی حفاطت کابہ امرمجبوری فریضہ سرانجام دے رہے ہیںاوروہ کسی بھی طالبان مخالف آپریشن میں حصہ نہیں لے رہے۔کچھ عرصہ پہلے فرانسیسی فوج نے طالبان کے خلاف ایک آپریشن میں حصہ لیاتھاجس کی پاداش میں حزب اسلامی نے ان کے دس فوجیوں کوہلاک کردیاتھا۔اس آپریشن کے بعدآج تک نہ صرف فرانسیسی فوج نے کسی بھی طالبان مخالف آپریشن میں حصہ نہیں لیا بلکہ خودکومخصوص علاقوں میں اپنی بیرکس میں محفوظ رہنے کاباقاعدگی سے ٹیکس بھی اداکرتے ہیں۔
فرانسیسی فوج کے انخلاء کی صورت میں امریکی فوج کیلئے ضلع سروبی بالکل غیرمحفوظ ہوجائے گااورطالبان اورحزب اسلامی مل کرافغانستان کے دارلحکومت کابل کامحاصرہ کرکے امریکی فوج کوشدید ترین نقصان پہنچاسکتی ہیں ۔اسی خوف کی وجہ سے امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کوفوری طورپریہ بیان دیناپڑاہے کہ فرانس امریکاکے ساتھ ہے اوراپنی فوج کو یہاں سے نہیں نکالے گالیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یورپی ممالک اپنی خراب معیشت کی وجہ سے افغانستان کے اندراپنے فوجیوں کی صحیح طورپرنگہداشت کرنے میں دن بدن کمزور اورناکام ہوتے چلے جارہے ہیںجس کی وجہ سے نہ صرف فوج کوشدیدمشکلات کاسامناہے بلکہ نیٹوسپلائی بندہونے کے بعدیورپی ممالک کے پاس ایئرلفٹ کاکوئی سسٹم بھی موجودنہیںہے جبکہ امریکاکووسطی ایشیاممالک سے ایئر لفٹ سسٹم پرپہلے سے دس گنازائداخراجات برداشت کرنے پڑرہے ہیں۔
ایک طرف امریکانیٹوسپلائی کی بحالی کیلئے پاکستان پرکئی اطراف سے دباؤ میں اضافہ کررہاہے اوردوسری جانب طالبان مزاحمت کاروں نے موسم بہارسے قبل ہی اپنے حملوں میں نہ صرف اضافہ بلکہ تیزی پیداکردی ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نیٹوسپلائی بندہونے کے بعدامریکاکے پاس آپریشن جاری رکھنے کے لئے ایندھن بھی تیزی سے ختم ہورہاہے ۔ افغانستان کے شمالی سالنگ شدیدبرفباری کے بعدمکمل طورپربندہوگیاہے اورمقامی انتظامیہ کے مطابق کم ازکم مارچ کے مہینے تک سالنگ کے کھلنے کے کوئی امکان نہیںجس سے بڑے پیمانے پرامریکی افواج کی کاکردگی متاثرہونے کاخطرہ مزیدبڑھ گیاہے۔
امریکااوریورپی ممالک کی جانب سے ایران پرمزیدپابندیاں لگانے کے بعدافغانستان کے حالات مزیدخراب ہوسکتے ہیںکیونکہ افغانستان میں امریکااوراس کے اتحادیوں کے خلاف ایران افغان مزاحمت کاروںکاایک اہم اتحادی کے طورپرابھررہاہے ۔یہی وجہ ہے کہ اگرایران افغان مزاحمت کاروں کی مددشروع کردے توشمالی افغانستان میں بھی امریکااوراس کے اتحادیوںکے خلاف مزاحمت شدت اختیارکرسکتی ہے جس کوکنٹرول کرناامریکااوراس کے اتحادیوں کے بس کی بات نہ ہوگی۔اسی تناظرمیں فرانس کے اپنے فوجیوں کے انخلاء کے اعلان نے امریکاکوحواس باختہ کردیاہے اوراس اعلان سے نہ صرف امریکابلکہ نیٹوکے دوسرے ممبران کوبھی خاصادھچکالگاہے۔امریکانے فوری طورپر فرانس کواپنے اس اعلان کوواپس لینے کیلئے اپنی کوششوں کوتیزترکردیاہے کہ کسی نہ کسی طورپرفرانس کے فوجیوں کی ہلاکت کے مسئلے پرفرانس کے عوام میں جو اشتعال پیداہواہے اس کو کسی نہ کسی طریقے سے ٹھنڈاکیاجاسکے۔
ادھرفرانس میں انتخابات قریب ہونے کی وجہ سے فرانسیسی صدرکی کوشش ہے کہ وہ فرانس کے اندراپنی مقبولیت میںاضافہ کرسکیںتاکہ آئندہ الیکشن میں ان کی پارٹی کوکامیابی مل سکے تاہم امریکاکوجن مشکلات کاسامناہے، لگتایہ ہے کہ افغانستان میں ان کے مصائب میں بے پناہ اضافہ ہونے والاہے۔اگرپاکستان مارچ تک نیٹوسپلائی بندرکھتاہے توموسم گرما میںامریکااوراس کے اتحادیوںکیلئے افغانستان کے اندرکاروائیوں کیلئے ایندھن بالکل ختم ہوجائے گا۔امریکانے توکئی اہم آپریشن اسی مجبوری کی وجہ سے پہلے ہی ختم کردیئے ہیں اوراب اس کی کوشش ہے کہ فرانس اوراس کے یورپی اتحادیوںکے افغانستان سے انخلاء پرعمل درآمدسے قبل ہی طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کردے تاہم جوطریقہ امریکانے اختیارکیاہے اس طریقہ کارسے مذاکرات کاعمل مزیدپیچیدہ ہوگیاہے۔
کیونکہ امریکاپاکستان،ایران اورافغان صدرحامدکرزئی کوبائی پاس کرکے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرناچاہتاہے تاہم طالبان لیڈروں کی اکثریت اس طرح کے مذاکرات کے حق میں نہیں ہیںکہ ان کے ہمسایہ ممالک ان مذاکرات میں شامل نہ ہوں۔شمالی اتحادکے رہنماء احمدضیاء کی جانب سے اس اعلان کے بعدکہ اگرافغانستان میں طالبان کو اقتدار
Clickbank Products دیا گیا توہم اس فیصلے کے خلاف ہتھیاراٹھائیں گے جس سے یہ امکان پیداہوگیاہے کہ اگرتمام فریقوں کواعتمادمیں لیکرمذاکرات نہ کئے گئے توافغانستان میں خطرناک قسم کی خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے۔افغانستان میں خانہ جنگی کی صورت میں تباہ شدہ افغانستان مزیدابتری پیداہوجائے گی جس سے افغانستان کے پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران بھی متاثرہوسکتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ امریکااورافغانستان میں مذاکرات کاابتدائی دورمکمل طورپرناکام ہوگیاہے۔
ادھریہ اطلاع بھی گشت کررہی ہے کہ افغان صدرحامدکرزئی اوران کے ساتھیوں نے امریکاکے گوانتاناموبے میںقیدطالبان رہنماؤںکوقطرمنتقل کرنے پراپنی رضامندی کا اظہار کیاہے تاہم افغان حکومت کوخدشہ ہے کہ امریکااپنے مفادات کی خاطرانہیں بائی پاس کرکے افغانستان میں امن مذاکرات کوتباہ کرسکتاہے اوراس طرح اامریکی طرزعمل سے افغانستان میں امن کی بجائے خانہ جنگی پیداہوگی اوراگرافغانستان اس امریکی عمل سے خانہ جنگی کاشکارہواتویہ نہ صرف افغان قوم کی بدقسمتی ہوگی بلکہ امریکااوراس کے اتحادی بھی معاشی طورپربالکل تباہ ہوجائیں گے جواس خطے سے اب بھی تجارت اورتیل کی ترسیل کی امیدلگائے بیٹھے ہیں۔ادھردوسری طرف طالبان مذاکرات پررضامندی ظاہرکرنے کے باوجود اپنے جائزاورقانونی مؤقف پرڈٹے ہوئے ہیں کہ امریکاافغانستان سے فوری طورپرنکل جائے اورافغانستان کے عوام کواپنے مرضی سے اپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کاحق تسلیم کیا جائے۔اگرافغان عوام اپنے حکمرانوں کاخودانتخاب کریں گے تویہ جہاںافغانستان کے امن کیلئے بہترہوگاوہاں دنیامیں انتہاپسندی کے خاتمے میں مددبھی ملے گی لیکن اگرامریکا باہرسے اپنے فیصلے مسلط کرنے کی کوشش کرے گاتودنیانے یہ دیکھ لیاہے کہ افغان عوام نے نہ توپہلے کسی جارح کی حاکمیت کوقبول کیاہے اورنہ ہی وہ آئندہ باہرسے مسلط کئے گئے فیصلے تسلیم کریں گے۔
جو جرات پروازمیں جاں دے گیا طارق
اس چڑیاکے بچے میں عقابوں سا جگرتھا
فرانس کے صدرنکولیس سرکوزی نے اپنے اس ہنگامی اجلاس کے بعدفوری طورپراپنے وزیردفاع کوافغانستان بھیجاجہاں میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے وزیردفاع نے کہاکہ افغان تربیتی اہلکارکے ہاتھوںاپنے فوجیوں کی ہلاکت ان کی حکومت کیلئے ناقابل قبول ہے اوروہ بڑی سنجیدگی سے اپنے فوجیوں کے جلدازجلدانخلاء کے بارے میں کوئی حتمی اعلان کرنے والاہے۔یادرہے فرانس گزشتہ سال ۲۵دسمبرتک اپنے چارسوفوجی پہلے ہی نکال چکاہے۔فوجی مبصرین کے مطابق افغانستان میں فرانسیسی فوج کے انخلاء کے بعدامریکاکیلئے طالبان مزاحمت کاروں کے ساتھ لڑناکافی مشکل ہوجائے گاجبکہ وہ پہلے ہی افغانستان میں کئی مصائب سے دوچارہے۔فرانسیسی فوجی اس وقت کابل کے ایک انتہائی اہم داخلی ضلع سروبی میں تعینات ہیں اوران کی تعیناتی کے بعدہی کابل میں بجلی کی سپلائی بحال ہوئی ہے۔
فرانسیسی فوجیوں کے مجوزہ انخلاء کے بعدکابل کے اس اہم ضلع سروبی کی حفاظت کی ذمہ داری بھی لامحالہ امریکی افواج کوسنبھالناپڑے گی اوراس طرح کابل پرمزاحمت کاروں کا دباؤشدیدبڑھ جائے گاجبکہ امریکی افواج کو پہلے ہی طالبان کے حملوں کے خوف نے خوفزدہ کررکھاہے۔اطلاعات یہ ہیں کہ اس علاقے میں فرانسیسی فوج مزاحمت کاروں کوٹیکس دیکرصرف ڈیم اوردیگرتنصیبات کی حفاطت کابہ امرمجبوری فریضہ سرانجام دے رہے ہیںاوروہ کسی بھی طالبان مخالف آپریشن میں حصہ نہیں لے رہے۔کچھ عرصہ پہلے فرانسیسی فوج نے طالبان کے خلاف ایک آپریشن میں حصہ لیاتھاجس کی پاداش میں حزب اسلامی نے ان کے دس فوجیوں کوہلاک کردیاتھا۔اس آپریشن کے بعدآج تک نہ صرف فرانسیسی فوج نے کسی بھی طالبان مخالف آپریشن میں حصہ نہیں لیا بلکہ خودکومخصوص علاقوں میں اپنی بیرکس میں محفوظ رہنے کاباقاعدگی سے ٹیکس بھی اداکرتے ہیں۔
فرانسیسی فوج کے انخلاء کی صورت میں امریکی فوج کیلئے ضلع سروبی بالکل غیرمحفوظ ہوجائے گااورطالبان اورحزب اسلامی مل کرافغانستان کے دارلحکومت کابل کامحاصرہ کرکے امریکی فوج کوشدید ترین نقصان پہنچاسکتی ہیں ۔اسی خوف کی وجہ سے امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کوفوری طورپریہ بیان دیناپڑاہے کہ فرانس امریکاکے ساتھ ہے اوراپنی فوج کو یہاں سے نہیں نکالے گالیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یورپی ممالک اپنی خراب معیشت کی وجہ سے افغانستان کے اندراپنے فوجیوں کی صحیح طورپرنگہداشت کرنے میں دن بدن کمزور اورناکام ہوتے چلے جارہے ہیںجس کی وجہ سے نہ صرف فوج کوشدیدمشکلات کاسامناہے بلکہ نیٹوسپلائی بندہونے کے بعدیورپی ممالک کے پاس ایئرلفٹ کاکوئی سسٹم بھی موجودنہیںہے جبکہ امریکاکووسطی ایشیاممالک سے ایئر لفٹ سسٹم پرپہلے سے دس گنازائداخراجات برداشت کرنے پڑرہے ہیں۔
ایک طرف امریکانیٹوسپلائی کی بحالی کیلئے پاکستان پرکئی اطراف سے دباؤ میں اضافہ کررہاہے اوردوسری جانب طالبان مزاحمت کاروں نے موسم بہارسے قبل ہی اپنے حملوں میں نہ صرف اضافہ بلکہ تیزی پیداکردی ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نیٹوسپلائی بندہونے کے بعدامریکاکے پاس آپریشن جاری رکھنے کے لئے ایندھن بھی تیزی سے ختم ہورہاہے ۔ افغانستان کے شمالی سالنگ شدیدبرفباری کے بعدمکمل طورپربندہوگیاہے اورمقامی انتظامیہ کے مطابق کم ازکم مارچ کے مہینے تک سالنگ کے کھلنے کے کوئی امکان نہیںجس سے بڑے پیمانے پرامریکی افواج کی کاکردگی متاثرہونے کاخطرہ مزیدبڑھ گیاہے۔
امریکااوریورپی ممالک کی جانب سے ایران پرمزیدپابندیاں لگانے کے بعدافغانستان کے حالات مزیدخراب ہوسکتے ہیںکیونکہ افغانستان میں امریکااوراس کے اتحادیوں کے خلاف ایران افغان مزاحمت کاروںکاایک اہم اتحادی کے طورپرابھررہاہے ۔یہی وجہ ہے کہ اگرایران افغان مزاحمت کاروں کی مددشروع کردے توشمالی افغانستان میں بھی امریکااوراس کے اتحادیوںکے خلاف مزاحمت شدت اختیارکرسکتی ہے جس کوکنٹرول کرناامریکااوراس کے اتحادیوں کے بس کی بات نہ ہوگی۔اسی تناظرمیں فرانس کے اپنے فوجیوں کے انخلاء کے اعلان نے امریکاکوحواس باختہ کردیاہے اوراس اعلان سے نہ صرف امریکابلکہ نیٹوکے دوسرے ممبران کوبھی خاصادھچکالگاہے۔امریکانے فوری طورپر فرانس کواپنے اس اعلان کوواپس لینے کیلئے اپنی کوششوں کوتیزترکردیاہے کہ کسی نہ کسی طورپرفرانس کے فوجیوں کی ہلاکت کے مسئلے پرفرانس کے عوام میں جو اشتعال پیداہواہے اس کو کسی نہ کسی طریقے سے ٹھنڈاکیاجاسکے۔
ادھرفرانس میں انتخابات قریب ہونے کی وجہ سے فرانسیسی صدرکی کوشش ہے کہ وہ فرانس کے اندراپنی مقبولیت میںاضافہ کرسکیںتاکہ آئندہ الیکشن میں ان کی پارٹی کوکامیابی مل سکے تاہم امریکاکوجن مشکلات کاسامناہے، لگتایہ ہے کہ افغانستان میں ان کے مصائب میں بے پناہ اضافہ ہونے والاہے۔اگرپاکستان مارچ تک نیٹوسپلائی بندرکھتاہے توموسم گرما میںامریکااوراس کے اتحادیوںکیلئے افغانستان کے اندرکاروائیوں کیلئے ایندھن بالکل ختم ہوجائے گا۔امریکانے توکئی اہم آپریشن اسی مجبوری کی وجہ سے پہلے ہی ختم کردیئے ہیں اوراب اس کی کوشش ہے کہ فرانس اوراس کے یورپی اتحادیوںکے افغانستان سے انخلاء پرعمل درآمدسے قبل ہی طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کردے تاہم جوطریقہ امریکانے اختیارکیاہے اس طریقہ کارسے مذاکرات کاعمل مزیدپیچیدہ ہوگیاہے۔
کیونکہ امریکاپاکستان،ایران اورافغان صدرحامدکرزئی کوبائی پاس کرکے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرناچاہتاہے تاہم طالبان لیڈروں کی اکثریت اس طرح کے مذاکرات کے حق میں نہیں ہیںکہ ان کے ہمسایہ ممالک ان مذاکرات میں شامل نہ ہوں۔شمالی اتحادکے رہنماء احمدضیاء کی جانب سے اس اعلان کے بعدکہ اگرافغانستان میں طالبان کو اقتدار
Clickbank Products دیا گیا توہم اس فیصلے کے خلاف ہتھیاراٹھائیں گے جس سے یہ امکان پیداہوگیاہے کہ اگرتمام فریقوں کواعتمادمیں لیکرمذاکرات نہ کئے گئے توافغانستان میں خطرناک قسم کی خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے۔افغانستان میں خانہ جنگی کی صورت میں تباہ شدہ افغانستان مزیدابتری پیداہوجائے گی جس سے افغانستان کے پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران بھی متاثرہوسکتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ امریکااورافغانستان میں مذاکرات کاابتدائی دورمکمل طورپرناکام ہوگیاہے۔
ادھریہ اطلاع بھی گشت کررہی ہے کہ افغان صدرحامدکرزئی اوران کے ساتھیوں نے امریکاکے گوانتاناموبے میںقیدطالبان رہنماؤںکوقطرمنتقل کرنے پراپنی رضامندی کا اظہار کیاہے تاہم افغان حکومت کوخدشہ ہے کہ امریکااپنے مفادات کی خاطرانہیں بائی پاس کرکے افغانستان میں امن مذاکرات کوتباہ کرسکتاہے اوراس طرح اامریکی طرزعمل سے افغانستان میں امن کی بجائے خانہ جنگی پیداہوگی اوراگرافغانستان اس امریکی عمل سے خانہ جنگی کاشکارہواتویہ نہ صرف افغان قوم کی بدقسمتی ہوگی بلکہ امریکااوراس کے اتحادی بھی معاشی طورپربالکل تباہ ہوجائیں گے جواس خطے سے اب بھی تجارت اورتیل کی ترسیل کی امیدلگائے بیٹھے ہیں۔ادھردوسری طرف طالبان مذاکرات پررضامندی ظاہرکرنے کے باوجود اپنے جائزاورقانونی مؤقف پرڈٹے ہوئے ہیں کہ امریکاافغانستان سے فوری طورپرنکل جائے اورافغانستان کے عوام کواپنے مرضی سے اپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کاحق تسلیم کیا جائے۔اگرافغان عوام اپنے حکمرانوں کاخودانتخاب کریں گے تویہ جہاںافغانستان کے امن کیلئے بہترہوگاوہاں دنیامیں انتہاپسندی کے خاتمے میں مددبھی ملے گی لیکن اگرامریکا باہرسے اپنے فیصلے مسلط کرنے کی کوشش کرے گاتودنیانے یہ دیکھ لیاہے کہ افغان عوام نے نہ توپہلے کسی جارح کی حاکمیت کوقبول کیاہے اورنہ ہی وہ آئندہ باہرسے مسلط کئے گئے فیصلے تسلیم کریں گے۔
جو جرات پروازمیں جاں دے گیا طارق
اس چڑیاکے بچے میں عقابوں سا جگرتھا
“I Dr Majid Aslam’ love my job... I’m easy to get on with and offer skills that will blow your mind-hole! Well, what are you waiting for? Hire me now, you won’t be disappointed!
.


0 comments:
Post a Comment